Monday 22 February 2010

Nepali Home minister Mr Rizwan Ansari at Tauheed Centre on 22-02-2010

مسلمانوں کو تعلیمی میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے کی ضرورت
نیپالی وزیر داخلہ مسٹر رضوان انصاری کا خطاب

کرشنانگر (نیپال)  ملک نیپال میں مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا چاہئے، کوشش ہوکہ کوئی بھی شخص تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم نہ رہے، یہ وقت کا اہم تقاضا ہے، اس پر لبیک کہنا چاہئے، ورنہ جو قومیں تعلیم سے رشتہ توڑ لیتی ہیں، تنزلی ان کا مقدر بن جاتی ہے، کرشنانگر میں قائم پہلی نسواں اقامتی درسگاہ مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان مرد و خواتین کا مستقبل اس دیش میں تابناک ہے۔
مذکورہ خیالات کا اظہار نیپال وزیر مملکت برائے امور داخلہ مسٹر رضوان انصاری نے آج صبح مدرسہ کے ناظم مولانا عبداللہ مدنی جھنڈانگری کی زیارت و ملاقات کے موقع پر منعقد ایک نشست میں کیا۔وزیر موصوف مولانا مدنی کی دعوت پر آج مرکزالتوحید کرشنانگر، تشریف لائے اور اس کے تمام شعبوں کا جائزہ لیااور دینی خدمات کو سراہا۔
اس سے قبل مولانا مدنی صاحب نے وزیر موصوف کا والہانہ استقبال کیا مرکز کے استاذ مولانا مطیع اللہ مدنی نے مدرسہ کی تعلیمی کارکردگیوں کا خلاصہ پیش کیا، بعد میں صدرمرکز نے متعدد مفید کتب وقرآن کا ایک سیٹ وزیر محترم کو ہدیہ کیا، اس موقع پر مدھیشی فورم کے ممبر پارلیمنٹ مسٹر اقبال شاہ، نیپال کمیونسٹ پارٹی کے سراج احمد فاروقی، نیپال اردو نیوز کے صدر زاہد آزاد جھنڈانگری، عبدالصبور ندوی، نور توحید کے مدیر انتظامی عبدالعظیم سلفی، مولانا عبد القیوم مدنی ، ڈاکٹر سعید احمد اثری تاجر عبدالنور سراجی، کے علاوہ علاقہ کے معزز افراد موجود تھے۔
صدر مرکز التوحید مولانا عبد اللہ مدنی نے وزیر موصوف کا شکریہ ادا کیا، یہ اطلاع سکریٹری نیپال اردو نیوز (این یو این) نے دی۔

Tuesday 16 February 2010

Idariya Dr. Muqtada hasan Azhari Number byL Abdullah Madani Jhanda Nagari

شعورو آگہی عبداللہ مدنی جھنڈانگری   

                                            سرزمین جامعہ کے آسمان ذی وقار

علامہ ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ

گذشتہ چالیس برسوں سے جامعہ سلفیہ بنارس کے درودیوار پر جس شخصیت کی چھاپ سب سے زیادہ نمایاں اور روشن نظر
آتی ہے وہ بلاشبہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ کی ذات والا صفات ہے، جن کی زندگی کی ہر ساعت صرف اور صرف جامعہ سے منسوب رہی، آپ جس وقت جامعہ تشریف لائے، وہ ابتدائی ایام تھے، اساتذہ کرام کی بالیاقت جماعت موجود تھی، جن سے آپ کو حوصلہ ملا، منتظمین جامعہ نے تشجیع کی، آپ نے قدم آگے بڑھائے، مختلف شعبہ جات کی نگہداشت کی، بحیثیت وکیل الجامعہ، جامعہ کے تعلقات ذی علم شخصیات اور تعلیمی و رفاہی جامعات و جمعیات سے استوار کئے، شعبہ اشاعت کو امتیاز بخشا، سیکڑوں کتب کی اشاعت کے لئے راہ ہموار کی گئی، ان پر مقدمات لکھے اور اس باب میں وہ کارنامہ انجام دیا جس کی مثال برصغیر کی اردو دینی دنیا میں مفقود ہے، ’’مجلہ صوت الامۃ‘‘ کی ادارت آپ کے ہاتھوں میں آئی، جس کے اوراق پر آپ کے علمی نقوش ثبت ہوتے رہے، طلبۂ جامعہ کی تربیت کے باب میں حضرت ازہریؔ رحمہ اللہ کا ایک خاص انداز تھا، وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنیاد پر طلبہ سے بے تکلف ہوہی نہیں سکتے تھے، اسی لئے ان کی موجودگی میں مجلس کا وزن قائم اور اعتبار ووقار باقی رہتا۔

آپ نے ہندوبیرون ہند مختلف ممالک کے ایشیائی اور عالمی اجتماعات اور کانفرنسز میں شرکت کی، بعض مقامات پر راقم الحروف کو بھی ساتھ رہنے کے مواقع میسر آئے، میں نے ہر جگہ اس مہر درخشاں کی ضیاباری کا احساس کیا،جامعۃ الامام البخاری، کشن گنج بہار کے ایک تعلیمی پروگرام میں موصوف رحمہ اللہ نے اپنا گراں قدر علمی مقالہ پیش فرمایا، مہمان خصوصی عالی جناب ڈاکٹر اخلاق الرحمن قدوائی گورنر صوبہ بہار تھے، جنھوں نے ہمت افزائی فرماتے ہوئے ڈاکٹر صاحب موصوف رحمہ اللہ سے مقالہ کی ایک کاپی بھی طلب کی، تاکہ بعد میں مستفید ہوسکیں۔

مکہ کی عالمی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر ایک خاص جماعتی نشست میں جماعت کی بے حد اہم مگر انتہائی متنازع شخصیت نے اپنے زور بیان کا مظاہرہ کرنا چاہا، وہاں میری آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ دیگر جماعتی اکابر کی موجودگی میں علامہ ازہریؔ نے جس طرح اپنی قوت گویائی کا اظہار فرمایا کہ اپنی طلاقت لسانی اور شعلہ مقالی کے باوجود روبرو ہونے والی وہ شخصیت مسکت جواب سن کر خاموش ہوگئی،اس طرح یہ مختصرمگر پروقار مجلس انتشار سے محفوظ رہی۔اس کے برعکس ان کی زندگی کا یہ دوسرا رخ بھی قابل ملاحظہ ہے،جماعت کی قدیم ترین دینی درس گاہ جامعہ سراج العلوم، بونڈیہار میں ایک اجتماع کے بعد نشست میں چند اہل علم حاضر تھے، حضرت علامہ ازہریؔ رحمہ اللہ کے ساتھ جماعت کی ممتاز و بے باک ہستی بھی وہاں موجود تھی، یہ ہستی تھی مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالقیوم صاحب رحمانی رحمہ اللہ کی۔مولانا رحمانی نے مصر کی تعلیم و ثقافت اور علمی ماحول پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں نے دکتوراہ دکتوراہ کی رٹ لگا رکھی ہے ، مگر یہ جان لیں شیخ الحدیث احمد اللہ پرتابگڈھی کی سند سے زیادہ معتبر یہ ڈگری نہیں ہوسکتی۔ بات علمی وقار کی تھی، مگر حضرت ازہریؔ نے اس بزرگ عالم دین کے اس تبصرے پر مکمل خاکسارانہ سکوت اختیار کرلیا، مجھے محسوس ہوا کہ ازہریؔ صاحب رحمہ اللہ کی خاموشی باکمال خرقہ پوش کے دل میں روشن قندیل ایمانی کی غیر ملفوظ داد دے رہی ہے۔ہمارے بزرگوں کا اپنے اکابر کے ساتھ یہی وہ متواضعانہ انداز تھا جو ان کی عظمتوں کو نکھارنے میں معاون ہواکرتا تھا۔ جسے موجودہ نسل بڑی حد تک نظر انداز کر چکی ہے۔

ان کے سامنے زندگی کا ایک مقصد تھا، جس کی تکمیل میں منہمک رہے، کتابیں تصنیف کیں، ترجمے کئے، اداریئے لکھے، مقالات تحریر کئے، صدارتی خطبات سے دلوں کو گرمایا، تدریس کے لئے مسند درس پر رونق افروز ہوئے، علمی نکات کے موتی لٹائے، ضیوف و زائرین کو جامعہ کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، اس کی اہمیت بتائی، علمی سمینار اور اجتماعات منعقد کئے، ان کی نگرانی فرمائی، غیر ملکی سفر میں جامعہ کی نمائندگی بھی ہوئی اور سلفی فکر کی ترجمانی بھی۔یہ بھی رب العالمین کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ جو شیخ ازہریؔ جماعتی تگ وتاز سے بیگانہ تھے وہ انہی کے بقول اللہ نے ان کا رخ جماعت کی طرف موڑ دیا، جب انہوں نے شیخ الحدیث علامہ محمد اسماعیل سلفی، گجرنوالہ کی شہکار تصنیف ’’تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کے تجدیدی مساعی ‘‘کے عربی ترجمہ کا آغاز کیا،اس کتاب نے حضرۃ الدکتور کے اندر خوشگوار تبدیلی پیدا کی، جس کے اثرات تمام عمر ظاہر ہوئے، ان کے اعمال جس پر شاہد ہیں، ۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی زندگی میں جلالی پہلو غالب رہا، بالعموم لوگ ان سے خائف رہا کرتے تھے،دوران صلاۃ صف میں جس جگہ وہ کھڑے ہوتے طلبہ ان کے بغل میں کھڑے ہونے سے گھبراتے تھے۔ موصوف کی زندگی کا یہ وہ پہلو تھا جس کے بسبب بہتوں کو ان سے ممکن ہے شکایت بھی رہی ہو، کہ آپ کم آمیز تھے، ہم نشینی کے زیادہ مواقع نہیں فراہم کرتے، یا یہ کہ طرز کلام میں بہت زیادہ مٹھاس نہیں تھی، پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ وہ تلخ کلام بہر حال نہیں تھے، کہ ہر مخاطب شکایت کرتا ہوا نظر آئے۔

دراصل مقصد سے لگاؤ کبھی کبھی عظیم شخصیات کو بھی یہ انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر آنے جانے والے کے ساتھ بے تکلف ہونے لگے، یا اپنا قیمتی وقت پر تکلف ضیافت میں صرف کرتا رہے تو گراں قدر علمی خدمات کی انجام دہی سے قاصر رہ جائے گا۔ ازہریؔ صاحب رحمہ اللہ سے شاکی رہنے والے ہمارے جملہ خرد وبزرگ اگر اس تاویل کی حقیقت کا ادراک کرلیں تو ان شاء اللہ ان کی شکایت رفع ہوجائے گی۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ اپنے تمام تر علمی و فکری اشتعال کے باوجود خشک نثری مؤلف بن کے نہیں رہ گئے تھے، انہیں منظوم کلام سے بھی لگاؤ تھا، وہ اچھے اشعار پڑھتے ،ان سے استدلال کرتے اور ان کی داد بھی دیتے تھے، حضرت فضاؔ ابن فیضی، جناب نسیمؔ بنارسی وحیرتؔ بستوی صاحبان کے کلام پر ان کے تبصرے قابل ذکر ہیں،دوران سفر ایک بار میں نے شام کے وقت خوش نما مناظر سے مسحور ہوکر پہاڑ کی چوٹیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ساحرؔ کی مشہور نظم کا ایک مصرع الٹا پڑھ دیا: سرمئی اجالا ہے چمپئی اندھیرا ہے۔فرمایا:میاں! چمپئی اجالا ہے سرمئی اندھیرا ہے۔طبقۂ مشائخ میں بروقت ایسی گرفت کرنے والے کمیاب ہیں۔

مختلف اورمتنوع خصوصیات وامتیازات کی حامل شخصیت کی وفات ملت اسلامیہ کا ایک المناک سانحہ ہے، بالخصوص ہماری مادر علمی جامعہ سلفیہ بنارس کو شدید دھچکا پہونچا ہے اور ہماری جماعت اپنے ایک عظیم صاحب فکر عالم دین سے محروم ہوگئی ہے۔اللہ اس خلا کو پُر فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عنایت کرے۔اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ

حضرت ازہریؔ رحمہ اللہ کی حیات پہ مشتمل یہ اشاعت خاص پیش کرتے ہوئے ہم رب العالمین کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں یہ توفیق عنایت فرمائی۔


ملی ترقی کے تقاضے--نمونۂ تحریر،--ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہری

اکیسویں صدی کے حوالہ سے ایک سوال مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق اٹھایا جارہا ہے،یہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا ہے، اس سے پہلے بھی ’’اسباب زوال امت‘‘ کے عنوان سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا ہے،اہل علم نے مقالے اور کتابیں بھی لکھی ہیں، اگر غورکیا جائے تو اس طرح کے سوال کو اٹھانا اور اس طرح کی فکر مندی رکھنا اچھی علامت ہے۔ کویت کے ہفت روزہ المجتمع میں اسی موضوع پر ایک مضمون شائع ہواہے جس کا عنوان چبھتا ہوا ہے، کاش اس چبھن کو عالم اسلام کا ہر فرد اور ہر جماعت محسوس کرے! عنوان کچھ اس طرح ہے: ’’اکیسویں صدی کی ایجادات ۔۔۔ہم فہرست میں سب سے نیچے کیوں؟‘‘

یقیناًنتازع للبقاء کے دور میں مادی و روحانی ہر طرح کی ترقی ضروری ہے اور میدان میں جتنی اقوام موجود ہیں ان کے مقابلہ میں امت مسلمہ کو برتریاکم از کم مساوی درجہ میں ہونا چاہئے، اگر امت دیگر اقوام کے مقابلہ میں ’’مجبور ومحتاج‘‘ حیثیت رکھتی ہو تو اسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے میں دشواری پیش آئے گی، جو اقوام خود کو ’’برتر‘‘ تصور کرتی ہیں وہ ’’کمتر‘‘ قوم کی بات پر توجہ نہ دیں گی۔ لیکن اس حساس ونازک نقطہ پر غور کرتے ہوئے اس مقصد تخلیق کو سامنے رکھنا بھی ضروری ہے جس کا ذکر سورہ ذاریات کی ۵۶نمبر کی آیت میں ہے، روحانی و مادی ترقی کے مابین ہمیں توازن پیدا کرنا ضروری ہے، صرف ایک پہلو پر توجہ دے کر دوسرے پہلو کو نظر انداز کردینا ہمارے ملی وتہذیبی وجود کے لئے خطرہ ہے، جو اہل علم اصلاح و ترقی کی گفتگو میں صرف کسی ایک پہلو پر توجہ دیتے ہیں اور دوسرے کو دانستہ یا نادانستہ نظر انداز کردیتے ہیں ان کے ذریعہ امت کی ترقی کا پروگرام تکمیل پذیر نہیں ہوسکتا، میدان میں اگر دوسری قومیں موجود ہوں تو یہ ہماری آزمائش ہے جس سے سرخروئی کے ساتھ عہد بر آ ہونا ہمارا فرض ہے۔

اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو جو ملک یا کمپنیاں ایجادات کے میدان میں آگے ہیں ان کی اقتصادی حالت بھی مضبوط ہے، دوسروں کی جیب سے پیسے نکل کر انہیں کے پاس جاتے ہیں، صنعتی میدان کی ترقی کو اسی لئے اہمیت دی جارہی ہے، نئی مصنوعات کی وجہ سے صارفین کی ضرورت بھی بدل جاتی ہے اور ہر نئی چیز انہیں اپنی طرف مائل کرتی ہے۔

جس مضمون کی جانب اشارہ گزرا اس میں ذکر ہے کہ آج دنیا میں ۷ء۵ ملین ایجادات مرحلۂ تنفیذ میں داخل ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں ہمارا حصہ کس قدر ہے اور ہم کیوں پیچھے ہیں؟

مسلم ممالک کے پاس دولت ہے اور وہ دولت خرچ بھی ہوتی ہے، لیکن حساب اس بات کا لگانا ہے کہ ان کی دولت کا کتنا حصہ سائنس و ٹکنالوجی سے متعلق تعلیم وتحقیق پر خرچ ہوتا ہے اور کتنا حصہ اسلحہ ،ادویہ اور دیگر سامانوں کی درآمد میں خرچ ہوتا ہے۔

ادارہ اقوام متحدہ کی ماتحت تنظیم (Wipo)دنیا کی ایجادات پر نظر رکھتی ہے، اس نے رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس دنیا نے سولہ لاکھ ایجادات کو پیش کیا لیکن صرف چھ لاکھ کو منظوری حاصل ہوئی، سرٹیفیکٹ کا مطالبہ کرنے والے ممالک کو دیکھا جائے تو جاپان سرفہرست ہے، پھر امریکہ کا درجہ اور ان دونوں ملکوں کے بعد چین ، کوریا اور یورپ کے نام آتے ہیں اور ان پانچوں ملکوں کو دنیا کی ایجادات سے متعلق مطالبہ کی مجموعی تعداد ۷۷؍فیصد کا تناسب حاصل ہے، ۷۴؍فیصد ایجادات کو سرٹیفیکٹ سے نوازا گیا ہے، لیکن ان میں کوئی عرب یا مسلم ملک نہیں۔

اس سلسلہ میں چین دوسرے ملکوں سے آگے نظر آتا ہے، پیٹنٹ کے مطالبہ میں عالمی سطح پر اب اس کا نمبر جاپان اور امریکہ کے بعد تیسرا ہے، وہ اس سلسلہ میں کوریا، روس اور یورپ ہر ایک سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔

سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو اسرائیل پہلے نمبر پر آتا ہے، وہ سائنس سے متعلق ریسرچ میں ۹۳؍فیصد یعنی اپنی قومی آمدنی کا تقریباً پانچ فیصد خرچ کرتا ہے، مصر اس سلسلہ میں اسرائیل سے پچیس گنا پیچھے ہے!

ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ملکوں کے مابین تفاوت زیادہ ہونے کے سبب ایک مصری عالم کہتے ہیں کہ: صلاحیت کے لحاظ سے قوموں کے بیچ بہت زیادہ فرق نہیں، مغرب کی طرح مشرق میں بھی باصلاحیت لوگ موجود ہیں، فرق یہ ہے کہ یورپ و امریکہ میں جمہور کی قیادت ہوشمندوں اور صلاحیت والوں کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن اس کے برخلاف مشرق کے مسلم ملکوں میں ملت کی ترقی سے بے نیاز لوگ اقتدار پر قابض ہیں، ان کے اصول میں ذاتی مفاد کو مقدم رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ذمہ داریاں تقسیم کرتے وقت بھی بہت زیادہ خیال رکھنا ضروری ہے، صلاحیت کی بنیاد پر ذمہ داری دی جائے اور اس سلسلہ میں کسی اور چیز کو پیش نظر نہ رکھا جائے۔

ایک عرصہ تک مسلم ممالک میں وسائل کی کمی کا شکوہ کیا جاتاتھا، لیکن مختلف تحقیقات کے نتیجہ میں اب ’’بندۂ مومن کی بے زری‘‘ کا حوالہ نہیں دیا جاتا۔ لوگوں کا معیار زندگی دیکھ کر بھی کوئی تصدیق نہ کرے گا کہ مسلم ممالک میں عوام غربت کا شکار ہیں، البتہ یہ صحیح ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کا حال اکثر مسلم ممالک کے حال سے بہتر ہے۔ دولت کی صحیح تقسیم اور تعمیر مقاصد میں اس کے استعمال کے بعد ایک مسئلہ بحث و تحقیق کی آزادی کا ہے، جو لوگ علم وتحقیق کے جوہر سے آراستہ ہیں ان کے لئے پر امن ماحول اور باوقار فضا کی یقین دہانی ہونی چاہئے اور ان کے تحقیقی منصوبوں کے لئے جس نوعیت کے وسائل کی ضرورت ہو انہیں ان کی مرضی کے مطابق فراہم ہونا چاہئے۔

اس وقت عالمی تجارت کی حوصلہ افزائی کا جو انداز ہے اس میں کمزور طبقہ کے لئے زیادہ فائدہ نہیں، بلکہ عام حالات میں وہ محروم رہتا ہے، اسی طرح محنت کش طبقہ بھی درمیانی اور اعلیٰ سطح کے تاجروں کے مقابلہ میں پامالی کا شکار رہتا 58ہے۔ اسلام نے جو مالیاتی نظام ترتیب دیا ہے اور جس طرح سماجی تعاون و تکافل کی تعلیم دی ہے اس کو بھی معاشرہ میں متعارف کرانا ضروری ہے، افراد کی خوشحالی و ترقی یقیناًمعاشرہ کی ترقی پر منتج ہوگی۔

ترقی کے لئے ملت کی جد وجہد کی بات آئی تونومبر ۱۹۸۸ء ؁ کی ایک خبر سامنے لانا ضروری ہے، اگر مسلم ممالک اس چیز کو اسی طرح اپنے پروگرام کا ضروری حصہ بنالیں تو جو خلا ہوگیا ہے اس کا پر ہونا مشکل نہ رہے گا۔

خبر کا عنوان یوں ہے:

سعودی ڈاکٹر کو امریکہ میں انعام۔

اور خبر کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ :

سعودی عرب کے دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر نفیس الرضوان کو امریکہ میں دماغی امراض کی تحقیق میں ایک انتہائی اہم کامیابی پر بین الاقوامی انعام دیا گیاہے۔ ڈاکٹر نفیس الرضوان کو شاہ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال نے اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا تھا، انہوں نے امریکہ میں اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی اور تعلیم کے دوران کئی انعامات حاصل کئے، شاہ فیصل اسپتال اور تحقیقی مرکز سعودی عرب کے ۴۶ ڈاکٹروں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ ، کنیڈا اور یورپ بھیج چکا ہے۔

اس مقام پر دین اور ترقی میں اس کی تاثیر کے تعلق سے ایک مصری عالم و ادیب علامہ شیخ محمود محمد شاکر کے بعض تاثرات کو ذہن میں رکھنا مفید ہوگا تاکہ مادی ترقی کی رو میں اصل انسانی مسئلہ سے غفلت کا ارتکاب نہ ہوجائے۔ علامہ محمود شاکر رحمہ اللہ کو سعودی عرب نے عالمی فیصل ایوارڈ سے نوازا تھا متنبی پر موصوف کی کتاب کے شروع میں جو رسالہ شائع ہوا ہے اسے ذہن میں رکھنے سے ترقی اور اس کی بنیاد کے سلسلہ میں بعض سنگین غلط فہمیوں کا ازالہ ہوسکتا ہے۔

موصوف نے ثقافت کے مسئلہ کو دین سے جوڑا ہے، کہتے ہیں کہ ثقافت کی اصل دین ہے جو فطری امر ہے، خواہ کوئی دین ہو۔ کسی خاص قوم کی بات نہیں، بلکہ زبان وثقافت کی حامل ہر قوم کے لئے اس اخلاقی اصل یعنی دین کا وجود ضروری ہے،ہمارے اسلاف نے اسی لئے دین پر توجہ مرکوز کی تھی کہ اس طرح ان کی ثقافت محفوظ رہے اور اس میں کہیں سے جھول نہ پیداہو۔

علامہ موصوف نے سولہویں صدی عیسوی کو ترقی کے عہد کا آغاز مانا ہے اور ان کی نظر میں اسلامی تہذیب کی قوت کا راز علم میں پوشیدہ ہے اور اس سے دنیا و آخرت دونوں کا علم مراد ہے۔

یورپ کے ترقی کے سلسلہ میں علامہ کا نقطۂ نظر بیحد واضح ہے، فرماتے ہیں کہ دارالسلام (اندلس اور مصر وعراق) سے علوم کا ذخیرہ یورپ پہنچا اور اقوام یورپ نے صبر و استقلال کے ساتھ ان علوم سے استفادہ کیا، مذہبی زندگی میں جو ناہمواریاں پیدا ہوگئی تھیں انہیں دور کیا، دارالسلام سے مخطوطات کے ذخیروں کو اپنے قبضہ میں کیا اور اپنی قوم کو ان سے استفادہ کی ترغیب دی اور اس طرح چشم زدن میں نہیں بلکہ بتدریج ان کی ترقی کا آغاز ہوا۔

موصوف نے ایک دلچسپ تعبیر یہ لکھی کہ اس وقت مسلم دنیا آنکھیں کھولے ہوئے سوئی ہوئی تھی اور اہل یورپ بیدار ہوچکے تھے۔ قسطنطنیہ کی فتح کے بعد مسلمانوں پر فتح کا خمار طاری تھا اور اہل یورپ عار مٹانے کے لئے عزم و ارادہ کے ساتھ سرگرم عمل تھے۔

خاکسار کو پچھلے کسی موقع پر ’’آزادی کے بعد مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ‘‘کے عنوان سے اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی، اس کا براہ راست تعلق اسی عنوان سے ہے جس سے یہ بات شروع ہوئی ہے ، لہٰذا مناسب ہے کہ سابقہ (لیکن غیر مطبوعہ) تحریر کا وہ حصہ پیش کردیا جائے جس کا تعلق ترقی سے ہے۔ اس مضمون میں ایک حصہ تعلیم سے، دوسرا اقتصاد سے اور تیسرا سماج سے متعلق تھا، فی الحال صرف تعلیم سے متعلق حصہ پیش کیا جارہا ہے:

مختلف میدانوں میں پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن حالات کی سنگینی کے باعث شاید اس پیش رفت کی کمی کا احساس زیادہ ہے، لیکن یہ احساس چونکہ ترقی کے لئے مفید ہے اس لئے ا س کا برقرار رہنا ملی زندگی کے لئے بہتر ہے۔

ہماری ملی زندگی میں کسی بھی نوعیت کی پسماندگی کے لئے وجہ جواز فراہم کرنا مستحسن امر نہیں،لیکن تحلیل وتجزیہ کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں مانا جائے گا جب تک کہ ہر واقعہ کے حقیقی سبب کاذکر نہ ہو۔ اس لئے مسلمانوں کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر نظر ڈالنا مناسب ہوگا کہ یہ پیش رفت تسلی بخش ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو اس کا سبب کیا ہے؟

آزادی کے بعد مسلمانوں کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ملک کی اس سب سے بڑی اقلیت کے سامنے معمول کے مطابق حالات میں صرف جدو جہد سے ترقی کا سوال نہیں، بلکہ ان ۶۰؍برسوں میں آگے بڑھنے کے لئے ہمیشہ اس کو غیر معمولی اور سنگین حالات کا سامنا رہا اور ان میں سب سے سنگین مسئلہ امن وامان کا ہے، اگر معتدل اور ہموار حالات میں ترقی کی بات ہوتی تو ممکن ہے کہ ملت کا حال اس سے بہتر ہوتا، لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ ملت کی توجہ اور مال ودولت کا بڑا حصہ بدامنی کی نذر ہوجاتا ہے اور یکسوئی کے ساتھ کام کرنے کے بجائے اندیشوں اور مایوسیوں کے ماحول میں لوگ سہمے سہمے کام کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ زیادہ محنت ، توجہ اور دولت صرف کرنے کے باوجود حاصل کم نکلتا ہے۔

مسلمانوں کی تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لئے دینی و دنیوی دونوں طرح کی تعلیم کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ دونوں کے تقاضے اور مقاصد الگ الگ ہیں اور دونوں میں ملت کی پیش رفت بھی مختلف ہے۔

دینی تعلیم میں جو پیش رفت ہوئی ہے اسے مجموعی طور پر بہتر کہا جاسکتا ہے اور بالخصوص ظاہری لحاظ سے یہ پیش رفت قابل اطمینان نظر آتی ہے، کیونکہ عرب ممالک سے مسلمانوں کے تعلقات کی استواری کے بعد دینی تعلیمی اداروں کو مالی تعاون حاصل ہوا ہے، جس کے سبب ان اداروں کا دائرہ کار وسیع ہوا ہے اور عمارتوں اور مدرسین کی تنخواہو کا معیار بہتر ہوا ہے، بہت سے جدید تعلیمی ادارے قائم ہوئے ہیں اور قدیم اداروں نے اپنی حیثیت مضبوط کی ہے۔

ظاہری حیثیت سے دینی تعلیم میں پیش رفت کے تذکرہ کے بعد اس کی معنوی حیثیت پر ایک نظر ضروری ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ انسان باطن کے مقابلہ میں ظاہر پر توجہ کم دیتا ہے، یہ چیزیہاں بھی نظر آتی ہے، یعنی آزادی کے بعد دینی مدارس نے اپنی ظاہری حالت جس حد تک سدھاری ہے، اتنا سدھار معنوی حالت میں نہیں ہوا ہے، موجودہ دور میں جس اعلیٰ تعلیمی معیار، بالغ نظر علماء، مدلل و دل کش دینی لٹریچر اور مؤثر انداز تبلیغ کی ضرورت ہے وہ ان مدارس سے پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ شاہ بانو کیس کے بعد مذہبی بنیادوں پر مسلمانوں کی سماجی اصلاح کا خیال ضرور پیدا ہوا ہے، لیکن یہ خیال کمزور اور وقتی دباؤ کے اثر جیسا محسوس ہوتا ہے۔

مدارس کے تئیں یہ احساس عام ہے کہ انہوں نے دینی تعلیم کے میدان میں تعلیم و اشاعت کے جدید ذرائع سے فائدہ نہیں حاصل کیا اور تعلیمی نظام میں ایسی سبیل نہیں پیدا کی جس سے لوگوں کی دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہو۔ جنگ آزادی کی تاریخ میں ہمیں علماء کی بڑی تعداد نظر آتی ہے، انہوں نے پوری بصیرت و ہمت کے ساتھ سیاسی میدان میں مسلم عوام کی قیادت کی اور انہیں اسلام سے وابستہ رہتے ہوئے انگریزوں کے مقابلہ اور ملحد مغربی تہذیب سے دور رہنے کی ترغیب دی۔ تحریک شہیدین (سید احمد شہیدؒ اور شاہ اسماعیل شہیدؒ ) اور علماء صادق پور کے حالات کا مطالعہ کرنے سے نظر آتا ہے کہ مسلمانوں کی ہر نوعیت کی رہنمائی کو ان علماء نے ضروری قرار دیا تھا اور اکثر علماء اس میں عملی طور پر شریک تھے۔لیکن آزادی کے بعد علماء کا کردار اتنا مؤثر نظر نہیں آتا، مسائل تو متعدد اور ہر نوعیت کے ہیں، لیکن میدان میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے علماء موجود نہیں، ان کا دائرہ کار تعلیمی میدان تک محدود ہے اور بہت محدود طور پر وہ عام دینی مسائل میں رائے دیتے ہیں، لیکن سیاست و اقتصاد سے متعلق ان کا کردار ناقابل ذکر ہے۔ اس خلاء کی وجہ سے ہماری سیاست اور اقتصاد دونوں پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا ہے جو مستقبل میں برے نتائج پیدا کرے گا۔ مسلمانوں کی رہنمائی کے فرض سے علماء کی علیحدگی کے نتیجہ میں مسلمانوں کی سیاسی واقتصادی قیادت کے لئے جو لوگ میدان میں آئے وہ اپنے فرض کو پورے طور پر ادا نہیں کرپا رہے ہیں،یا کسی اور سبب سے ان کی قیادت کامیاب نہیں ہے۔

دانشوروں میں ترقی کے موضوع پر سید حامد صاحب کے خیال سے واقفیت بے محل نہ ہوگی، موصوف نے حج ہاؤس ممبئی میں اکتوبر ۲۰۰۰ء ؁ میں ’’اکیسویں صدی میں سماجی خدمات: چیلنج و ترجیحات اسلامی نقطۂ نظر میں‘‘ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو ۴؍خارجی اور ۲؍داخلی خطروں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ۲۰؍ویں صدی میں دنیا کی برق رفتارترقی میں ان کا کوئی حصہ نہیں رہا اور وہ ہر طرح سے پسماندہ رہ گئے ہیں، وہ سر اٹھا کر نہیں چل پارہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی زبوں حالی پر غور کرنے کے لئے ماضی میں سیمینار اور اجلاس منعقد کئے گئے لیکن اس کے بعد عملی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں اور اس کے سبب ان اجتماعات کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکا ہے۔

سید حامد نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی کا جواب عداوت سے نہیں دینا چاہئے کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بہتر سلوک سے دل بدل جاتے ہیں اور خدمت خلق کا جذبہ سبھی کے لئے ہونا چاہئے، اس میں تفریق نہ کی جائے۔

انہوں نے معاشرے میں فحاشی اور عریانیت کے اضافہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے فتنے ہیں جن سے ہمارے نوجوانوں کو دور رکھنا ہوگا، ان فتنوں کے علاوہ ۲؍ایسے خطرے ہیں جو مسلم معاشرے کے داخلی خطرات میں شمار ہوتے ہیں۔

سید حامد نے داخلی خطرات میں مسلکی اختلافات کو سب سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اختلافات شرمناک ہیں، اسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے، اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اختلافات ممبئی، حیدرآباد،دہلی وغیرہ سے نکل کر برمنگھم اور شکاگو تک پہنچ گئے، اس کا حل یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کریں اور اتحاد کا مظاہرہ کریں، انہوں نے شمالی ہندمیں برادری واد کے بڑھتے ہوئے رجحانات سے بھی آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فائدہ اہل سیاست اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں اور انہیں کامیاب ہونے نہیں دینا چاہئے۔

جامعہ ہمدرد کے چانسلر نے کہا کہ رائے عامہ نہ ہونے کی سزا بھی مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے، اس کی وجہ سے ارباب اقتدار پر مسلمانوں کی بات کا وزن نہیں پڑتا، اپنی بات منوانے کے لئے رائے عامہ بنانا نہایت ضروری ہے، اس کے لئے ایک عرصہ قبل مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالی گئی مگر اختلافات نے اسے دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔

انہوں نے اچھی اور مؤثر قیادت کے فقدان کا ایک سبب یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے قیادت کو ہمیشہ شک وشبہ کی نظر سے دیکھا ہے، اچھی قیادت کے لئے انہیں اپنے قائدپر اعتماد کرنا ہوگا اور اس کی نیت پر شبہ نہ کیا جانا چاہئے، اس کے علاوہ ہمیں ادارے چلانے کا شعور نہیں ہے، جو بدنظمی کے ساتھ ساتھ بھائی بھتیجہ واد کا شکار ہیں۔ سید حامد نے تعلیم سے کنارہ کشی کو مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب بتاتے ہوئے کہا کہ ایک انگریز مورخ کا کہنا ہے کہ ۸ویں صدی سے ۱۳ویں صدی تک سائنسی ایجاد مسلمانوں نے کی ہیں، آج نوبدھسٹ اور مسلمان سب سے زیادہ پسماندہ ہیں، اس لئے اب ہمیں ناخواندگی دور کرنے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے، اس میدان میں خصوصی طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینا چاہئے، تعلیم کے سلسلے میں جدید تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی تو مسلمان کافی پچھڑ جائیں گے۔

حفظان صحت اور اصلاح معاشرہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سید حامد نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس تعلق سے چلائی جانے والی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کو اس پوزیشن میں ہونا چاہئے کہ اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کر سکیں، اس کے لئے وطن کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنا ہوا، کیونکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی کسی مذہب کی معلومات کے لئے اس کا مطالعہ نہیں کرتا ہے، بلکہ اس کے ماننے والوں کی عادات اور اخلاق پر نظر رکھتا ہے۔

ان سطور کے اخیر میں عرض کرنا ضروری ہے کہ ملی ترقی مسلسل عمل واستقلال و پامردی اور امید و حوصلہ کا متقاضی ہے، اگر ملت ان اوصاف کو اپنے اندر پیداکرلے اور نیت کی درستگی کے ساتھ کام شروع کردے تو ناکامی کی کوئی وجہ نہیں، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے۔

(بشکریہ: محدث،بنارس۔)


ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری-------مولانا محمد اسحاق بھٹی

ہندوستان کے صوبہ یوپی کے ایک شہر کا نام مؤ ناتھ بھنجن ہے جو کپڑے کی صنعت،علمی مراکز اور علمائے دین کا مسکن ہونے کی بنا پر صدیوں سے مشہور ہے۔ اس شہر کو یہ خصوصیت بھی حاصل ہے کہ اس میں سلفی حضرات کے تین بڑے مدارس قائم ہیں۔ ایک جامعہ عالیہ عربیہ، دوسرا جامعہ اسلامیہ جسے مدرسہ فیض عام کہا جاتا ہے اور تیسرا جامعہ اثریہ۔ ان کے علاوہ چھوٹی سطح کے متعدد مدارس جاری ہیں۔

وہاں کے بڑے مدارس نے اس نواح میں بے حد شہرت پائی۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں اور صوبوں سے طلبا ان میں داخل ہوئے اور انہوں نے علوم دینیہ حاصل کئے۔ پھر وہ تصنیف وتالیف، دعوت وارشاد اور درس وتدریس میں مشغول ہوگئے۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کی خدمات کے دائرے علم وعمل کے مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

اسی علمی اور صنعتی شہر(مؤ ناتھ بھنجن)کے ایک سلفی خاندان کے ممتاز عالم دین ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری ہیں جو ۱۸؍اگست ۱۹۳۹ء ؁ کو پیدا ہوئے اور خالص علمی فضا اور مجمع علما میں پلے بڑھے۔

تعلیم کا آغاز مدرسہ دارالعلوم سے کیا جو مرزا ہادی پورہ کی شاخ ہے۔ (۱)۱۹۵۳ء ؁ میں وہاں سے حفظ قرآن کی سند لی۔ پھر اسی شہر کے مختلف سلفی مدارس میں تعلیمی مراحل طے کئے۔ جامعہ عالیہ عربیہ سے ۱۹۵۹ء ؁میں درجہ ثانویہ کی سند حاصل کیااور ۱۹۶۲ء ؁میں وہاں کی جامعہ اثریہ سے سند فراغت سے بہرہ یاب ہوئے۔ ۱۹۵۹ء ؁اور ۱۹۶۲ء ؁کے درمیانی عرصے میں صوبہ یوپی کے سرکاری تعلیمی بورڈ میں ’’مولوی، مولوی عالم اور مولوی فاضل‘‘ کے امتحانات دئے اور ان میں کامیاب ہوئے۔

اس کے بعد مصر گئے اور جامعہ ازہرمیں داخلہ لیا۔ ۱۹۶۶ء ؁ میں وہاں کے شعبہ اصول الدین میں ایم اے کی سند حاصل کی پھر جامعہ ازہر ہی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا، لیکن اس اثنا میں حالات ایسے پیدا ہوئے کہ اپنے وطن (ہندوستان) واپس آگئے اور سلسلۂ تدریس شروع کردیا۔ اسی اثنا میں ان کے دل میں اعلیٰ تعلیم کی تکمیل کا جذبہ ابھرا تو۱۹۷۲ء ؁میں ایم فل کیا۔ پھر اس سے تین سال بعد ۱۹۷۵ء ؁میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ادب عربی‘‘ میں پی ایچ ڈی کی سند لی۔ اس طرح ان کا طویل تعلیمی سفر اختتام کو پہنچا اور انہوں نے ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے نام سے شہرت پائی۔

اپنے تعلیمی مراحل کے مختلف حصوں میں انہوں نے جن علماء و شیوخ سے استفادہ کیا، ان میں ڈاکٹر عبدالعلی، شیخ عبدالمعید، شیخ شمس الحق سلفی، شیخ عبدالرحمن، شیخ حبیب الرحمن فیضی، شیخ عظیم اللہ،شیخ عبداللہ شائق، شیخ ابوالقاسم فیضی، ڈاکٹر علی عبدالواحد وافی اور ڈاکٹر شوقی ضیف شامل ہیں۔

۱۹۶۸ء ؁ میں ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کو جامعہ سلفیہ(بنارس) کی تدریسی جماعت میں شامل کیا گیا۔ اس وقت جامعہ کے ناظم اعلیٰ شیخ عبدالوحید سلفی تھے جنہوں نے ڈاکٹر صاحب ممدوح کے نبوغ و فراست اور ان کی صلاحیت و قابلیت کا اندازہ کرلیا تھا۔ پھر انہیں جامعہ کے وکیل کا منصب عطا کیا گیا۔ جامعہ کا عربی مجلہ’’صوت الامۃ‘‘ ۱۹۶۹ء ؁ میں جاری ہوا تو انہیں اس کا چیف ایڈیٹر بنادیا گیا۔ اس مجلے کا وہ اداریہ بھی لکھتے اور مضامین بھی سپر قلم کرتے ہیں یہ انتہائی اہم کام ہے جو وہ باقائدگی سے کررہے ہیں۔ جامعہ کے تحقیقی و تصنیفی ادارے کا نام ’’ادارۃ البحوث الاسلامیہ‘‘ ہے ، جس کی طرف سے اب تک عربی، اردو، ہندی اور انگریزی میں چارسو سے زیادہ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ڈاکٹر صاحب اس بہت بڑے ادارے کے نگراں ہیں اور ہرکتاب پر جچے تلے الفاظ میں مقدمہ تحریر فرماتے ہیں۔

اللہ نے ان کو زبان و اسلوب کی نعمت سے بھی نوازا ہے اور معلومات کی دولت بھی عطا فرمائی ہے۔ وہ مختلف رسائل و جرائد میں اردو اور عربی دونوں زبانوں میں اظہار رائے کرتے ہیں اور قارئین شوق اور دلچسپی سے ان کے مضامین پڑھتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے تحریر فرمودہ مضامین و مقالات کی تعداد پانچ سو سے آگے نکل چکی ہے۔

اب ان کی تصانیف کی طرف آیئے۔

(۱)۔۔۔ تاریخ ادب عربی: یہ کتاب پانچ جلدوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

(۲)۔۔۔ عورت کے متعلق اسلام کا نظریہ: اس موضوع کی یہ ایک قابل قدر کتاب ہے۔

(۳)۔۔۔ ادب کی حقیقت

(۴)۔۔۔ مسلمان اور اسلامی ثقافت

(۵)۔۔۔ دور حاضر میں نوجوان مسلم کی ذمہ داری

(۶)۔۔۔ معاصر کتابوں اور تاریخ کی روشنی میں بابری مسجد کا سانحہ۔

ان اردو کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نے متعدد عربی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا، ان کتابوں میں مندرجہ ذیل کتابوں کو خاص اہمیت حاصل ہے:

(۱)۔۔۔ اقتضاء الصراط المستقیم: یہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی کتاب ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے اردوزبان میں ترجمہ کیا۔

(۲)۔۔۔ مختصر زاد المعاد: یہ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کی تصنیف ہے۔

(۳)۔۔۔ اصلاح المساجد: یہ شیخ جمال الدین قاسمی کی تالیف ہے۔

(۴)۔۔۔ فتاویٰ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اردو میں اختصار۔

ان کے علاوہ متعدد اہم اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ ان کتابوں میں بعض کتابیں یہ ہیں:

(۱)۔۔۔ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین : یہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی فارسی تصنیف ہے، جس کا ڈاکٹر صاحب نے عربی زبان میں ترجمہ کیا۔

(۲)۔۔۔ رحمت للعالمین: یہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصور پوری کی نبی ﷺ کی سیرتِ مقدسہ کے موضوع پر اردو زبان میں تین جلدوں پر مشتمل کتاب ہے، جسے بے حد شہرت اور قبولیت حاصل ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔

(۳)۔۔۔ تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی: یہ حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی مرحوم کی اردو تصنیف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجھود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘کے نام سے اس کا عربی میں ترجمہ کیا۔

(۴)۔۔۔ حجیت حدیث: یہ بھی حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی تصنیف ہے، جسے ڈاکٹر صاحب ممدوح نے عربی کے قالب میں ڈھالا۔ اس کتاب کے چار باب ہیں:

باب اول: حدیث کی تشریعی اہمیت

باب دوم: جماعت اسلامی کا نظریۂ حدیث

باب سوم: سنت، قرآن کے آئینے میں

باب چہارم: حجیت حدیث نبیﷺ کی سیرت کی روشنی میں

اب ڈاکٹر صاحب کے تلامذہ کی طرف آتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ممدوح کی تدریس کا سلسلہ ان کے جامعہ ازہر میں داخلے سے قبل سے چلتا ہے۔ اپنے وطن کے مدارس سے فارغ ہونے کے بعد ڈاکٹر صاحب ۱۹۶۰ء ؁سے ۱۹۶۲ء ؁ تک جامعہ اسلامیہ(فیض عام) مؤناتھ بھنجن کی مسند درس پر دوسال متمکن رہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں (جب پی ایچ ڈی کی تیاری کررہے تھے) دوسال وہاں عربی ادب کا مضمون پڑھایا۔

اس کے بعد ۱۹۶۸ء ؁سے اب تک مسلسل جامعہ سلفیہ (بنارس) میں طلباء کو پڑھارہے ہیں۔ اس اثنا میں ان سے بے شمار طلباء نے کسب علم کیا۔ صحیح معنوں میں ان کا مقام استاذ الاساتذہ کا ہے۔ ان کے تلامذہ میں بہت سے حضرات اپنے ملک ہندوستان اور ہندوستان سے باہر (پورپ،امریکہ، افریقہ اور عرب کے) مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان میں بعض درس وتدریس میں مشغول ہیں،بعض نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ شروع کررکھا ہے،بعض تقریر وخطابت میں سرگرم عمل ہیں، بعض افتا اور تحقیق میں مصروف ہیں۔ان کے تلامذہ کی وسیع فہرست میں مولانا صلاح الدین مقبول احمد بھی شامل ہیں جو کویت میں اقامت گزیں ہیں اور وہاں تصنیف و تحقیق اور تحریر و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ مولانا صلاح الدین کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔

مرکز جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم اعلیٰ اور مجلہ ترجمان دہلی کے مدیر اعلیٰ مولانا اصغرعلی امام مہدی کا شمار بھی ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری نہایت فعال اور اسلام کے سرگرم عمل مبلغ ہیں۔ اپنے ملک میں تو وہ اسلام کی خدمت کرہی رہے ہیں انہوں نے ملک کے باہر بھی کئی مرتبہ اپنے ملک کے نمائندے کے طور پر مختلف اسلامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔

علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب کئی علمی مجلسوں اور متعدد ادبی و ثقافتی اداروں کے رکن ہیں۔ ان میں سے بعض یہ ہیں:

*علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی مجلس منتظمہ اور مشاورتی کونسل

*ہندوستان کی اسلامی پرسنل لا کمیٹی

*مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ

*رابطہ ادب اسلامی ہند

*ہندوستان کی اسلامی تعلیمات کی نگہداشت کی کمیٹی

*جامعہ محمدیہ ممبئی کی تعلیمی کمیٹی

*ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ کے نگراں

ڈاکٹر صاحب اسلامی تعلیمات کے ان تھک داعی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو گوناگوں اوصاف سے بہرہ مند کیا ہے۔ وہ بے حد محنت اور اخلاص سے حالات کی روشنی میں کام کررہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کے فروغ و ذیوغ کا وہ خوب تجربہ رکھتے ہیں اور اس معاملے میں اپنے ہم عصروں سے آگے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے۔ وہ بہ یک وقت مصنف بھی ہیں، مترجم بھی ہیں، مدرس بھی ہیں، مقرر بھی ہیں، منتظم بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی زندگی دراز فرمائے اور انہیں ہر میدان عمل میں کامیابی سے نوازے۔

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کے بارے میں یہ مختصر سی معلومات مولانا صلاح الدین مقبول احمد(کویت) کے ایک علمی مضمون کا ترجمہ ہے جوانہوں نے ڈاکٹر صاحب کی کتاب ’’حجۃ الحدیث النبوی‘‘ پر لکھا ہے۔ یہ کتاب حضرت مولانا محمد اسماعیل سلفی کی اردو تصنیف ’’حجیت حدیث‘‘ کا عربی ترجمہ ہے۔ اگر اس سے زیادہ معلومات حاصل ہوجائیں تو ان شاء اللہ بشرطِ زندگی کسی دوسری کتاب میںآجائیں گی۔مثلا ان کے طالب علمی کے زمانے کے اہم واقعات، بنارس اور کسی دوسری جگہ پیش آنے والے واقعات، قیام مصر کے زمانے کی کوئی خاص بات۔۔۔ اس قسم کی باتیں اردو میں دستیاب ہوجائیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ کتابوں کے نام اردو ہی میں آنے چاہئیں، ان کا عربی ترجمہ سمجھنے میں بعض اوقات دقت پیش آتی ہے۔ اسی طرح کمیٹیوں اور اداروں کے نام بھی اردومیں لکھے جائیں جو کہ ان کے اصل نام ہیں۔ ان کے عربی ترجمے کو صحیح طور سے اردو میں منتقل کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔

مولانا صلاح الدین مقبول احمد کے مضمون کاترجمہ قارئین کے مطالعہ میں آیا۔ اب اپنے متعلق خود ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ کے چند ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔ ڈاکٹر صاحب نے مولانا محمد اسماعیل سلفی کی کتاب حجیت حدیث (حجیۃ الحدیث النبوی) پر ’’کلمۃ المترجم‘‘ کے عنوان سے جو سطور عربی میں تحریر فرمائی ہیں، ان کا ترجمہ جناب ابوبکر ظفر (دارالدعوۃ السلفیہ شیش محل روڈ،لاہور) نے کیا۔ یہ ترجمہ ان کے شکریہ کے ساتھ ذیل میں درج کیا جارہا ہے۔

جامعہ سلفیہ بنارس میں تدریس اور عربی مجلہ ’’صوت الجامعہ‘‘ کی ادارتی ذمہ داری کے زمانے کاذکر ہے کہ میں نے بہ توفیق الٰہی مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی چند کتب کا عربی ترجمہ کیا تھا، ان میں پہلی کتاب ’’حرکۃ الانطلاق الفکری وجہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید‘‘ ہے، جس کا اردو نام ’’تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی‘‘ ہے۔

اس ترجمے کی ابتداء بظاہر معمولی لیکن اہم اور مناسب واقعہ سے ہوئی۔ یہ واقعہ ہمیشہ میرے سامنے رہا ہے:

ایک روز مدیر الجامعہ شیخ عبدالوحید عبدالحق سلفی نے مذکورہ کتاب کا اولین ایڈیشن مجھے دیا، میں نے اسے باربار پڑھایہ کتاب مجھے بہت پسند آئی۔ پھر کچھ احباب و رفقاء سے مشورہ کرکے اس کا عربی ترجمہ شروع کردیا گیا جو اس زمانے میں ’’صوت الجامعہ‘‘ میں بالاقساط شائع ہوا اور قارئین نے اس کی تحسین کی۔

ترجمے کی تکمیل پر میری درخواست کے مطابق مولانا عبیداللہ رحمانی نے اس پر نہایت فاضلانہ مقدمہ لکھا اور مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کے حالات زندگی کے بعض اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا حکم فرمایا۔ تعمیل حکم کے بعد یہ ایڈیشن ۱۳۶۷ھ ؁میں شائع ہوا۔

اردو کے دوسرے ایڈیشن میں اضافوں کی وجہ سے ہم نے عربی میں بھی اضافہ کیا اور ڈاکٹرعبدالرحمن فریوائی نے اس دوران مراجعت کرنے میں مجھ سے تعاون فرمایا۔ اردو کی طرح عربی ایڈیشن نے بھی قارئین کرام میں قبول عام حاصل کیا۔

سلفی دعوت اور تحریک وتاریخ جیسے اہم موضوع کو دیکھنے اورپڑھنے والے محققین اس کتاب سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کی اتنی مقبولیت دیکھ کر مجھے یہ شوق پیدا ہوا کہ مولانا سلفی رحمہ اللہ کی بقیہ تصانیف بھی عربی میں ترجمہ کرکے شائع کی جائیں تاکہ برصغیر میں جماعت اہل حدیث کی تگ وتاز سے اہل عرب بھی آگاہ ہوں اور جو کوششیں اس جماعت نے سنت کے پھیلاؤ اور اس کے دفاع میں کی ہیں نیز بدعات اور شرک کے خاتمے کے لئے جو وسائل اختیار کئے ہیں، ان کا عربی دان لوگوں کو پتہ چلے۔

۱۴۰۱ھ ؁ میں مولانا سلفی رحمہ اللہ کے چار مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’حجیت حدیث‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی، یہ کتاب بھی بہت مقبول ہوئی، بالخصوص محدثین کا منہج واضح کرنے میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔

اس مجموعے کا ایک مقالہ جماعت اسلامی کا نظریہ حدیث ہے۔ چونکہ اہل حدیث کا نظریہ اس سے مختلف ہے اس لئے مولانا صلاح الدین مقبول احمد نے اس مقالے کا عربی ترجمہ کرکے کویت سے کتابی صورت میں شائع کیا۔ میں نے پوری کتاب کا ترجمہ کرتے وقت مندرجہ بالا مقالے کے علاوہ باقی مقالات کا ترجمہ کیا۔ نیز کچھ احباب کے مشورے سے اس موضوع سے متعلق دوسرے مضامین کا ترجمہ کرکے اس کتاب میں شامل کردیا تاکہ اہل عرب مولانا سلفی رحمہ اللہ کی مساعی جمیلہ سے پوری طرح آگاہی حاصل کرسکیں۔

ترجمے کا یہ کام تقریباً پندرہ سال پہلے ہی مکمل ہوچکا تھا لیکن نظر ثانی کے انتظار میں آج تک التوا کا شکار رہا۔ اب اللہ کی توفیق سے نظر ثانی کا کام مکمل کرکے، عبارتوں کا اصل ماخذ سے موازنہ کرکے اور تسامحات کی درستی کے بعد اسے شائع کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں بعض شخصیات اور قابل وضاحت عبارتوں پر حواشی بھی لکھے ہیں، جنھیں آئندہ اشاعت کے لئے محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس اشاعت میں حصہ لینے والے تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے، آمین۔

Friday 5 February 2010

ایک عظیم دانشور۔ عبدالرزاق عبدالغفارسلفی

نہایت مشفق اور بے تکلف دوست ڈاکٹر رضاء اللہ مبارکپوری ؒ (م؍ ۳۰؍مارچ ۲۰۰۳ء) استاذ محترم علامہ شیخ صفی الرحمن مبارکپوری ؒ (م؍۱؍دسمبر۲۰۰۶ء) ہر دلعزیز بزرگ مولانا عبدالرشید ازہریؔ بستویؒ (م؍۷؍دسمبر۲۰۰۶ء) امیر جماعت مولانا مختار احمد ندویؒ (م؍ ۹؍دسمبر۲۰۰۷ء ؁)استاذ محترم رئیس المصنفین مولانا رئیس احمد ندویؒ (م؍۹؍مئی ۲۰۰۹ء)مفسر قرآن مولانا عبدالقیوم رحمانی بستویؒ (م؍۲۸؍مئی ۲۰۰۹ء) کے بعد اب بر صغیر ہند و پاک میں عربی زبان و ادب کے صف اول کے ادیب، انشاء پرداز، مؤلف ومصنف اور مترجم، عربی زبان کی خدمات کے صلہ میں صدر جمہوریۂ ہند کے ایوارڈ یافتہ، جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس کے صدر اور جامعہ سلفیہ سے تقریبا جالیس سال سے شائع ہونے والے عربی ماہنامہ ’’صوت الامۃ‘‘کے رئیس التحریر،استاذ محترم جناب ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ بھی ہم سب سے جدا ہوگئے، جن کے جانے سے علم وادب کا ایک ستون گر گیا، ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا ۔

جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس اور ماہنامہ ’’ صوت الامۃ‘‘ کے رئیس التحریر کو اجل نے ہم سب سے چھین لیا ہے، جو ملت اسلامیہ کے لئے ایک زبردست علمی اور قلمی خسارہ ہے جس کی تلافی بظاہر ناممکن نظر آتی ہے، دل ودماغ ششدر اور حیران بن کررہ گئے ہیں، اس لئے نہیں کہ موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا ،موت تو ہر ایک کو آنی ہے، البتہ جس تیزی سے بیماری نے ان پر حملہ کیا اور پھر آناً فاناً چل بسے، اس پر چشم حیران اور دل حزیں ہے ۔

چشم حیراں، دل حزیں، افسردہ چہرہ ، گنگ لب

دیکھ لے دنیا ہمارے ضبط کا پیمانہ آج

اور صرف اتنا ہی نہیں کہ ہم لوگ ہی ماتم کناں ہیں، بلکہ جامعہ سلفیہ بنارس کے درودیوار اداس ہیں اور زبان حال سے کہہ رہے ہیں۔

جس کو عزم نے سینچا تھا اپنے خون سے

ہوگئی وہ بزم علم آہ! پھر ویرانہ آج

طلبہ اداس ہیں، اساتذہ اداس ہیں، کارکنان اداس ہیں، ارکان جامعہ اداس ہیں اور۔ع

آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں

متوسط قد، مناسب بدن، گندمی رنگ، نگاہیں تیز، دانائی و دوراندیشی، معاملہ فہمی، حسن تدبیر، حسن تدبر،مزاج میں شائستگی استقلال اور ٹھہراؤ، طبیعت میں پاکیزگی ونفاست، اصول اور قوانین اور وقت کی پابندی، گفتگو میں نرمی و متانت، لب و لہجہ محبت آمیز، دفاع حق میں جسور و غیور،چلنے میں میں نگاہیں نیچی اور پروقار، کشادہ پیشانی، بارعب چہرہ،کبھی کبھی زیرلب مسکراہٹ، گھنی داڑھی، ظرف و نظر میں وسعت، کبھی سر پر گول ٹوپی کبھی مخملی، یوپی کا مشرقی لباس کرتا پائجامہ اور شیروانی زیب تن، علمی رکھ رکھاؤ اور وضع داری، اسم با مسمیٰ یہ تھے ہمارے استاذ محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ ؒ ۔

جامعہ سلفیہ بنارس کے ناظم اول مولانا عبدالوحید عبدالحق سلفی رحمہ اللہ کی دور بینی اور مردم شناسی کی داد دینی پڑتی ہے کہ ان کی نظر ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ جیسے دانا وبینا اور دور اندیش و معاملہ فہم شخص پر پڑی اور پھر منتخب کرلیا اور جامعہ سلفیہ بنارس کے تمام خارجہ امور کو ان کے ہی سپرد کر دیا، تاکہ وہ اپنے حسن تدبر و تدبیر سے جامعہ کے خاکوں میں مناسب رنگ بھر سکیں اور اس کے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ میں بڑائی تھی دانائی تھی، یہی وجہ ہے کہ جامعہ سلفیہ بنارس کو مرکزی مقام دلانے میں،خواہ اندرون ملک کا معاملہ ہو یا بیرون ملک کا، اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا مرکزی کردار رہا ہے، بڑی لگن او ر خلوص سے جامعہ کے کاز کو آگے بڑھانا، لوگوں سے رابطے پیدا کرنا اور پھر ان سے خط وکتابت کرنا، ہر ماہ ’’صوت الأمۃ‘‘ میں نئے نئے مضامین شائع کرکے عالم اسلام میں پھیلانا اور جامعہ سلفیہ کے نام کو روشن کرنا، اس کے مورال کو بلند کرنا اور اردو صحافت کے ساتھ ساتھ عربی صحافت کا اعلیٰ معیار قائم کرنا،یہ ڈاکٹرصاحب رحمہ اللہ کی انتھک اوربے لوث کوششوں کے نتیجہ میں ہی ہوسکا۔

اردو صحافت کا معاملہ رہا ہو یاعربی صحافت کا آپ نے دونوں زبانوں سے ملت اسلامیہ کو بھرپور فائدہ پہنچایا ہے۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ تقریباً چالیس سال تک تصنیف و تالیف ،ترجمہ و انشاء اور عربی و اردو صحافت کے میدان میں اپنے قلم کی جولانیاں دکھاتے رہے، ادب کے شہ پارے بکھیرتے رہے، علم کے موتیوں کو لٹاتے رہے، فکر و نظر اور علم و فن کا دریا بہاتے رہے اور کبھی اکتاہٹ اور تھکاوٹ محسوس نہ کی، ہر ماہ’’ صوت الأمۃ ‘‘ عربی اورماہنامہ ’’محدّث‘‘ اردو کے اکثر شماروں میں اپنی علمی نگارشات پیش کرتے رہے، ملت اسلامیہ پر اگر کوئی افتاد آئی یا ملت اسلامیہ کسی مشکل سے دوچار ہوئی تو ان کے دل پر جو گزرتی رہی اسے رقم کرتے رہے۔

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

جو دل پہ گذرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

قلم و قرطاس کے ساتھ ساتھ تدریسی فرائض بھی انجام دیتے رہے، ہندو بیرون ہند میں اصحاب علم وفضل سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی چلتا رہا اور کبھی کبھار دورے بھی کرتے رہے، سیمیناروں اور کانفرنسوں میں کرسئ صدارت کی زینت بھی بنے اور خطبۂ صدارت بھی پیش کرتے رہے، جمعیت و جماعت اور طلبہ و مدرسین کو اہم تجاویز و قیمتی مشورے دیتے رہے اور جمعیت و جماعت کی حدی خوانی بھی کرتے رہے، ملت اسلامیہ کے چاک سینوں کے زخموں پر مرہم بھی رکھتے رہے، خلیجی بحران پر تبصرے کرتے رہے اور عالمی سیاست کے گیسو بھی سنوارتے رہے ،نام نہاد اور شور وشرپسند مصنفین کی خبر بھی لیتے رہے اور ان تک دعوتِ حق کا پیغام بھی پہنچاتے رہے، لیکن کسی موڑ اور کسی بھی اسٹیج پر وقار و متانت اور سنجیدگی کا دامن نہیں چھوڑا۔

زباں سخن کو سخن بانکپن کو ترسے گا

سخن کدہ مری طرزِ سخن کو ترسے گا

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کا ہر تجزیہ بصیرت افروز و جامع ہر تحریر پر وقار و متوازن ،ہر تقریر پرمغز و معتدل اور ہر مشورہ پرکیف و دل کشا ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ مفکر جماعت و ملت بن گئے تھے۔ ان کی سوچ اور غور فکر کا پیمانہ بہت وسیع تھا اور ملت اسلامیہ کے تمام مسائل پر محیط تھا، اگر وہ کچھ سوچتے تھے تو ملت اسلامیہ کی بہبود وفلاح اور اس کی مشکلات کے حل کے بارے میں سوچتے تھے،اس بات کی شہادت ان کے وہ مقالات اور مضامین دیں گے جو مختلف صحف و مجلات اور اردو عربی کے رسائل وجرائد میں بکھرے پڑے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ ایک عظیم دانشور اور ایک عظیم بالغ نظر صحافی تھے، ان کی صحافت چالیس سال کے طویل عرصہ پر محیط ہے، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ زندگی بھر کثرت سے مقالات و مضامین لکھتے رہے، میرے اپنے اندازے کے مطابق تقریباً پانچ ہزار صفحات پر ان کے مقالات بکھرے پڑے ہیں اوریہ مقالات ان تقدیم و تقریظ ، اداریوں ،تصنیف و تالیف ،عرض ناشر، ترجمہ و انشاء اور خطبۂ صدارت کے علاوہ ہیں، جو آپ سیمیناروں اور کانفرنسوں میں پڑھا کرتے تھے۔

چنانچہ ’’صوت الأمۃ‘‘ سے لیکر ہندوستان کے مختلف رسائل و جرائد میں آپ کے قیمتی مقالات ہر ماہ چھپتے رہتے تھے، مثال کے طورپر ماہنامہ ’’محدّث‘‘بنارس، جریدہ’ ’ترجمان‘‘ دہلی، ’’آواز ملک‘‘ بنارس اور راشٹرسہارا لکھنؤ وغیرہ۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ میدان صحافت میں خوب خوب اپنے جوہر اور قلم کی جولانیاں دکھلاتے رہے اور ایک با مقصد صحافت کو گلے لگائے رکھااور صحافت برائے شہرت کی ہمیشہ تردید کی،ان کی صحافت بامقصد تھی اور اس کے لئے پوری زندگی وقف کررکھی تھی، عالمی صحافت کے انحراف اور بے راہ روی پر کڑی تنقید کرتے تھے اور ان کو درست و صحیح راہ کی طرف راہنمائی بھی کرتے تھے، آپ کے مقالات و مضامین میں تنوع اور گہرائی ہوا کرتی تھی، ٹھوس علمی مواد،ادبی چاشنی اور انشاء پردازی کے جوہر بھی دیکھنے میں آتے تھے، ان تمام مقالات کو یکجا کرنا امر دشوار ہے اور دقت طلب بھی، بس چند مقالات کے عناوین کے ذکر پر اکتفا کروں گا جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے علم و فکر میں کتنی گہرائی تھی اور ان کی نگاہیں کہاں تک دیکھ لیا کرتی تھیں۔

مقالات کے چند عناوین کچھ اس طرح ہیں:

۱۔عصر حاضر میں اسلام کا تعارف، تقاضے اور امکانات

۲۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب

۳۔ اسلامی ضابطۂ اخلاق اور ہمارا سماج

۴۔ مدارس اسلامیہ کا نصاب اور معیار تعلیم

۵۔ ملی ترقی کے تقاضے

۶۔ انسانیت کی بے کسی، اسلحہ کی عالمی تجارت کے تناظر میں

۷۔ انسانیت کی بہی خواہی ہمارا فرض ہے

۸۔ اسلحہ بندی کا یہ عمل کہاں لے جائیگا

۹۔ فکری انتشار سے بچنے کی ضرورت ہے

۱۰۔ امریکہ کے حادثہ پر عرب صحافت کا رد عمل

۱۱۔ ملک کی تعمیر و ترقی اور جمہوری اقدار کا تحفظ

۱۲۔ تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدۂ دشوار

۱۳۔ حقوق انسانی کا تحفظ اور بڑی طاقتوں کی آویزش

۱۴۔ انسانی بنیاد پر باہمی تعلقات کی استواری

۱۵۔ افغانستان پر امریکی حملہ اور اہل نظر کے اندیشے

استاذ محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ کے مقالات کے یہ چند عنوانات ہیں۔

نرم ہے برگ سمن، گرم ہے میرا سخن

میری غزل کے لئے ظرف نیا چاہئے

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی عبارتوں کو نقل کرنا اور پھر ان پر تبصرہ کرنا طوالت کا باعث ہوگا اس لئے چند مقالات کی چند عبارتیں پیش کرکے رخصت ہوجاؤں گا۔ ان شاء اللہ

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی تحریر حق گوئی، جرأت، جذبۂ ایمانی اور توازن سے بھرپور ہوتی تھی،تملق،چاپلوسی اور مداہنت سے کوسوں دور رہتے تھے، چنانچہ اپنے ایک مضمون ’’انسانیت کی بہی خواہی ہمارا فرض ہے‘‘ میں یوں لکھتے ہیں:

’’ اہل باطل جب باطل پرستی کے سہارے اور باطل کی سربلندی کے لئے اپنا کام کرنے کی جرأت رکھتے ہیں تو اہل حق کو حق کی حمایت اور انسانیت کے احترام و تحفظ کے لئے اس سے زیادہ جرأت پیدا کرنے کی ضرورت ہے، ہم باطل پر نہیں ہیں نہ ظلم کے شیداہیں نہ ملک میں تخریب چاہتے ہیں نہ مکر وفریب اور غداری و وعدہ خلافی کے جرم میں ملوث ہیں اس لئے ہمیں خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، نہ کسی طرح کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی۔غور کرنے کی بات ہے کہ جس وقت ملک میں اس کی محبت اور تعمیر کے دعویداروں نے مکر وفریب اور ظلم وستم کا بازار گرم کر رکھا ہے تو دوسری طرف ممبئی کے ہر شد مہتہ کی خیانتوں سے پردے اٹھ رہے ہیں اور محکمۂ سراغ رسانی و عدالت کے افسران اس خیانت کی تفتیش میں لگے ہوئے ہیں،دوسروں کو خائن اور غدار کہنے والے اس بات پر غور کریں کہ کیا خیانت میں کوئی مسلمان بھی ملوث نظر آتا ہے، ملک میں مسلمانوں کا کردار تمام تر کمزوریوں کے بعد بھی دوسروں کے بالمقابل بے داغ ہے۔

اخباروں میں جو معاملات زیر بحث رہتے ہیں ان میں مسلمان ہوتے ہیں یا دوسرے لوگ‘‘ (محدّث:جنوری ۲۰۰۸ء ؁ ۔ص:۱۳)

میں نے شروع میں لکھا ہے کہ آپ کا ہر تجزیہ بصیرت افروز ،ہر تحریر پروقار اور ہر مشورہ پرکیف ہوتا تھا اور ادب وانشاء کا نمونہ بھی، میری اس بات پر شہادت آپ کی ذیل کی تحریر دے گی۔ملاحظہ فرمائیں آپ ’’فکری انتشار سے بچنے کی ضرورت ہے‘‘ کے تحت لکھتے ہیں:’’انفرادی واجتماعی انانیت، خود غرضی،ظلم وستم، عناد و رعونت، بے راہ روی،مادہ پرستی، حرص و طمع اوروحشت و بربریت کے دور میں قرآن کریم کا امت مسلمہ کے لئے یہ اعلان کہ اس کی تخلیق میں لوگوں کی خیر وفلاح مضمر ہے، بے حد اہم اور معنیٰ خیز ہے۔

ایسی عظیم اور بامقصد امت کی رہنمائی و بیداری کے لئے جو تحریر پیش کی جائے اسے بے حد معتدل اورجامع ہونا چاہئے، ایسا نہ ہو کہ ’’ شد پریشاں خواب من از کثرت تعبیرھا‘‘ والا مقولہ صادق آئے۔

امت کے لئے جو تجویز پیش کی جائے اس میں اس کے مقام و مسؤلیت کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، ایسا نہ ہوکہ فکر وعمل کی جس راہ کی گفتگو کی جارہی ہے وہ امت کے منصب و ذمہ داری سے میل نہ کھارہی ہو، آزاد ہندوستان میں کچھ اس طرح کا الجھاؤ پیدا ہوا ہے(یا پیدا کردیا گیا ہے) کہ اچھے اچھے لوگ ذہنی انتشار، مایوسی و جھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں،محدود پیمانوں سے معاملات کو دیکھنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی بے حد معمولی چیز پر نگاہ ٹک جاتی ہے اور بڑے بڑے مسائل الگ رہ جاتے ہیں۔

امت مسلمہ کی اصلاح کے پروگرام کو معمہ سمجھا جارہا ہے لیکن یہ معمہ نہیں تنازع للبقاء کے اس دور میں ہمیں پہلے اپنے دین سے رہنمائی حاصل کرنا چاہئے، طاقت کے توازن کی کوشش اور ظالم کا ہاتھ پکڑنا ضروری ہے،لیکن صحیح فکر اور صحیح عمل کے بغیر کارگہہ حیات میں سبقت کا تصور خام خیالی ہے، اسی زمین وآسمان کے درمیان دوسرے کام کرتے ہیں اور اسی میں کام کرنے کا ہم سے بھی مطالبہ ہے، اس مطالبہ کی تکمیل کے لئے سب سے پہلے جس چیز کی ضرورت ہے وہ یہی ہے کہ ہم احتجاجی سیاست کے ساتھ ہی عمل کے میدان میں اتریں اور شکایت نہیں بلکہ محنت کے ذریعہ اپنا مقام پیدا کریں۔

مہر ومہ وانجم نہیں محکوم ترے کیوں؟

کیوں تیری نگاہوں سے گزرتے نہیں افلاک

(محدّث:جولائی۲۰۰۰ ؁ء ۔ص:۵؍۷)

بیسویں صدی کے اختتام اور اکیسویں صدی کا آغاز ہوتے ہی کچھ نئے نظریات اور خیالات ابھر کر سامنے آنے لگے اور ان پر خوب گرماگرم بحث ہونے لگی۔

صدی بدلی باقی کچھ نہیں بدلا زمانے میں

وہی مقتل،وہی گردن، وہی شمشیر ہے ساقی

انہی نظریات میں سے ایک نظریہ یہ سامنے آیا اور پورے زور شور سے سامنے آیا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی لائی جائے، ان کے تعلیمی معیار کو بلند کیا جائے اور انہیں عصری تعلیم سے ہم آہنگ بنایا جائے، یہ آواز دراصل بہت دور کی کوڑی سمجھ کربلند کی گئی، تاکہ مدارس اسلامیہ پر ایک ضرب کاری لگائی جاسکے، اس کے طرۂ امتیاز کو ختم کیا جاسکے اور اسلامی بود وباش رکھنے والوں کو ایک کٹہرے میں کھڑا کیا جاسکے اور پھر اس طرح رہی سہی اسلامی تشخص و رمق کو صفحۂ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے، اس کا خوب خوب پروپیگنڈہ کیا گیا،سیمینار اورکانفرنسیں منعقد کی گئیں اور نام نہاد دانشوروں اور ماہرین تعلیم کو اس مسئلہ کے حل کے لئے مدعو کیا گیا تاکہ وہ اپنی مسموم تجاویز اور مشورے دے سکیں اور پھر اسلامی تعلیم وتربیت پر ضرب لگاسکیں، سو عصری تعلیم سے ہم آہنگ ہونے کی بات جوں کی توں رہی اور پھر۔ع

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندۂ معنیٰ نہ ہوا

چنانچہ ۲۰؍مئی ۲۰۰۷ء ؁ مؤناتھ بھنجن کے ایک اجتماع بعنوان ’’فروغ تعلیم کے لئے ذہن سازی کا طریقہ‘‘ میں ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے بھی شرکت کی اور اس کے تعلق سے اپنا مقالہ پیش کیا، تمام پہلوؤں پر نہایت اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی اور چند لفظوں میں اس سازشی ذہن کا پردہ فاش کیا، نیز دل آویزاور بصیرت افروز مشورہ دیتے ہوئے اس مقالے کا نچوڑ یوں پیش کیا:

’’ ہماری گفتگو سے کسی کے ذہن میں یہ بات نہ آئے کہ ہم عصری تعلیم کے مخالف ہیں عصری علوم ہمارے انسانی معاشرہ کی ضرورت ہیں، اس وجہ سے علماء اسلام نے اپنے عہد عروج میں صرف طبیعی علوم کی آبیاری نہیں کی بلکہ ان میں قائدانہ کردار ادا کیا اور ضرورت کے مطابق علوم ایجاد کئے، عربی اور مغربی تہذیبوں کے باہمی تفاعل اور اخذ وعطا کے موضوع پر عرب دنیا میں جو کتابیں تصنیف کی گئی ہیں (ان کی تعداد بہت زیادہ ہے)ان سے معاملہ کی صحیح تصویر واضح ہوتی ہے، سابقہ عہدوں میں ابن ندیم، حاجی خلیفہ اور طاش کبری زادہ نے اور جدید عہد میں بروکلمن اور فؤاد سزگین نے علوم سائنس میں مسلمانوں کی حصہ داری سے متعلق جن کتابوں کی نشاندہی کی ہے ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے، ماضی میں جس طرح مسلمانوں نے قرآن و حدیث سے متعلق علوم کی آبیاری کی اسی طرح طب وسائنس کے علوم میں بھی اپنی برتری ثابت کی ، آج اسی ماضی سے سبق لے کر جدید علوم اور سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میںآگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور اس طرح آگے بڑھنے ضرورت ہے کہ مسلم قوم کی پسماندگی کا داغ پوری طرح دھل جائے ، البتہ ذہن میں اس بات کو تازہ رکھنا ضروری ہے کہ دین اور علوم دین کی ترقی و تقویت کے بغیر ہماری ہر ترقی بے سود ہے، ہم دین و دنیا میں تفریق کے قائل نہیں، لیکن دنیا کی ایسی ترقی جو ہمیں اپنے دینی ورثہ اور شناخت سے الگ کردے، ہمارے لئے گھاٹے کا سودا ہے، لہٰذا علوم شرعیہ اور عصریہ کی گفتگو میں دونوں نوعیت کے علوم کی ماہیت اور انسانی معاشرہ کے لئے ان کی ضرورت کے مسئلہ میں بصیرت اور کشادہ دلی سے بات کرنے کی ضرورت ہے، مجھے علمی میدان کی ہر رائے کا بے حد احترام ہے لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کے احترام کا پابند کیا ہے اسے مقدم رکھنا ضروری ہے۔ (محدّث: اگست۲۰۰۷ء ؁۔ص:۹)

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کے مقالات سے یہ چند اقتباسات ہیں ان کو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایک عالم دین دانشور کی تحریر میں کتنی بلاغت اور وسعت ہے صداقت اور واقعیت ہے، وضاحت،صراحت اور قطعیت ہے، زبان رواں اورشستہ ہے انداز بیاں بے حد متین اور پر وقار ہے، لب و لہجہ میں اعتماد اور یقین کی جھلک ہے، ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی ہر تحریر اسی طرح پر وقار، واضح ،بین اور دوٹوک ہواکرتی تھی، چونکہ آپ کی نظر میں وسعت اور مطالعے میں عمق تھا اس لئے جب کسی موضوع پرقلم اٹھاتے تھے تو اس کے ہر پہلو کو اچھی طرح ٹٹولتے تھے اور بحث کے ہر گوشے کو تکمیل تک پہونچاتے تھے، ادنیٰ سے ادنیٰ مسئلہ کو بھی تشنہ نہ چھوڑتے تھے۔ع

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کی زندگی میں میرے لئے جو دوسری چیز پر کشش تھی وہ ان کی قوت تصنیف و تالیف اور ترجمہ و انشاء کا عمل ہے ،یہاں میری گفتگو صرف ان کے تراجم پر ہی مرکوز ہوگی اور وہ بھی صرف ایک پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش ناتمام کرونگا ،چنانچہ جو لوگ بھی میدان تصنیف و تالیف اور ترجمہ و انشاء کے مراحل سے گزر چکے ہیں ان کو معلوم ہے کہ تصنیف سے کہیں زیادہ ترجمہ ایک مشکل ترین عمل ہے، ترجمہ کے لئے ضروری ہے کہ مترجم دونوں زبانوں کا ماہر ہو، دونوں زبانوں کے اسرار ورموز تشبیہات و استعارات اور مصطلحات سے خوب اچھی طرح واقف ہو۔ تاکہ دوران ترجمہ اس کو کسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے، دوسرے ترجمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ زبان رواں، شستہ، سادہ اور سلیس ہو، تاکہ طبع زاد تصنیف کا گمان ہونے لگے۔

ترجمہ کے تعلق سے کئی باتیں کہی جاتی ہیں مگر ان میں دو باتیں بے حد اہم ہیں:

۱۔ ترجمہ میں اصل تصنیف کی جھلک ہونی چاہئے

۲۔ ترجمہ کو مترجم کے منفرد اسلوب کا نمائندہ ہونا چاہئے ہندی کے شاعر ڈاکٹر بچن کہتے ہیں کہ اگر مترجم اعلیٰ درجہ کی تخلیقی صلاحیت کا مالک ہو اور ترجمہ دیانتداری سے کرے تو اس کا ترجمہ اصل تخلیق سے زیادہ وقیع فن پارہ بن سکتا ہے، اس لئے کہ ترجمہ کے عمل میں دو تخلیقی جوہر بروئے کار ہوتے ہیں، ایک مصنف کا اور دوسرا مترجم کا۔

ترجمہ کے بغیر آج کوئی زبان جدید اور ترقی پذیر ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتی اور ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس پر قدرت حاصل کرنے کے لئے شوق وصلاحیت ہی نہیں مشق و مزاولت اور اصولی واقفیت بھی درکار ہے، اصلاح سازی کے اصول اور طریقے، ترجمہ کے مختلف نظرئیے، ترجمہ میں زبان و اسلوب کے مسائل، ترجمہ کی اقسام ان تمام پہلوؤں سے واقفیت ضروری ہے، اس کے ساتھ ہی اپنی زبان میں ترجمہ کی روایت ، اس کے رجحانات اور مختلف اداروں اور افراد کے ذریعہ اس کی نشونماکا علم بھی ضروری ہے۔

ترجمہ کے لئے جتنے اصول و قواعد بیان کئے جاتے ہیں ہمارے استاذ محترم رحمہ اللہ کو ترجمہ کی تاریخ سے لیکر اس کے تمام اصول و مبادی سے بھرپور واقفیت حاصل تھی یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ کو اردو سے عربی اور عربی سے اردوترجمہ کرنے میں اس قدر مہارت حاصل تھی کہ پڑھنے سے اندازہ ہی نہیں ہوپاتا تھا کہ یہ ترجمہ ہے یا اصل تصنیف وتالیف، ترجمہ کی زبان اعلیٰ و معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت سادہ اور سلیس ہوتی تھی، آپ کے ہر ترجمہ میں ندرت تھی، جچے تلے الفاظ اورجملوں کی بندش ، عبارت میں ادبی ذوق اور چاشنی پائی جاتی تھی، جس سے پڑھنے میں لطف آتا اور زبان چٹخارے لیتی۔

چنانچہ عربی ادب و انشاء اور بیان و ترجمہ میں مولانا سید امیر علی ملیح آبادی، علامہ عبدالعزیز میمنی راجکوٹی، مولانامحمد یوسف سورتی،مولانا عبدالمجید حریری بنارسی، مولاناعبدالرزاق ملیح آباد ی اور استاذ الاساتذہ مولانا عبدالغفور بسکوہری کے بعد بر صغیر ہند میں کم ازکم جماعت اہل حدیث کی سطح پر ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ کا کوئی ثانی نہ تھا اور ہمارے استاذ محترم نے ترجمہ کرنے میں بھی کسی سطحی فکر ونظر کا ثبوت نہ دیا بلکہ ایسی کتابوں کا انتخاب فرمایا تاکہ جن سے زبان و ادب کے ساتھ ساتھ فکر میں بالیدگی، خیالات میں بلندی اور عقیدے میں پختگی کے لئے راہیں ہموار ہوسکیں، اردو کی جتنی کتابوں کو آپ نے عربی جامہ پہنایا وہ یہ ہیں:(۱) رحمۃ للعالمین( ۲) تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی (۳) حجیت حدیث (۴) زیارت قبور (۵) مسئلہ حیات النبیﷺ (۶)سرگزشت مجاہدین (۷) عروج زوال کا الٰہی نظام۔وغیرہ۔

اردوکی یہ وہ کتابیں ہیں جن کے پڑھنے سے سیرت نبویﷺ میں درک،حبّ نبیﷺ میں اضافہ، حدیث کی حجیت پر یقین کامل، ایمان میں تازگی، جذبۂ جہاد میں ولولہ انگیزی، عقیدے میں نکھاراور قوموں کے عروج وزوال کے اسباب کا سراغ ملتا ہے، اس طرح آپ نے جن عربی کتابوں کو اردو کے قالب میں ڈھالا ان کے پڑھنے سے ذہن و قلب میں پاکیزگی، سیرت و کردار میں سدھار اور یقین و عمل میں تحریک پیدا ہوتی ہے، ان باتوں کے ذکر سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ترجمہ میں آپ کی ذہنی جہت کا تعین ہوتا ہے اور اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ترجمہ کرتے وقت آپ کا مقصود کیاتھا۔

میں یہاں عربی سے اردو ترجمہ کے چند نمونے پیش کرونگا جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ استاذ محترم کو ترجمہ کرنے پر کتنی قدرت حاصل تھی اور دونوں زبانوں میں کتنی مہارت اور ان کے اسرار ورموز تک کس قدر رسائی حاصل تھی۔

عصر حاضر کے معروف مفکرمحمد قطب کتاب وسنت کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

یعنی ان ہی دونوں سرچشموں میں تاریخ کے ہر دور کے لئے مسلم فرد، مسلم جماعت، مسلم امت اور مسلم حکومت کی تعمیر کے تمام ضروری مواد اور عناصر موجود ہیں، شرط یہ ہے کہ مسلمان یہ تعمیر چاہیں اور اس کے لئے ضروری کوشش کا عزم رکھیں۔

مسجد نبوی کے اندر کی وہ جگہ جو حضرت عائشہؓ کے حجرے اور نبیﷺ کے منبر کے مابین واقع ہے اور جہاں پر حضور صحابہ کو تعلیم وتربیت دیتے تھے اس کے بارے میں علامہ محب الدین الخطیب لکھتے ہیں:

یعنی اسی مقام پر معلم انسانیت نبی ﷺ ان اولین مردان کار کو تیار فرماتے تھے جنھوں نے روئے زمین میں سب سے بڑا، سب سے پائیدار سب سے نفع بخش اور سب سے برتر انقلاب برپا کیا۔

صلیبی جنگوں کے آخری دور میں مسلمانوں کی دینی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے استاذ محمد قطب لکھتے ہیں:

لاالٰہ الا اللہ (جو پورے اسلام کی بنیاد اور اس کا سب سے بڑا رکن ہے) کا مفہوم صرف زبان سے ادائیگی میں بدل گیا تھا ۔ امر واقع سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا، مسلمانوں کی زندگی میں اس کا تقاضا صرف اتنا تھا کہ دن بھر میں اسے چند بار کہہ لیا جائے، عقیدے کی خرابیاں اس کے علاوہ تھیں، یعنی خرافات کا ارتکاب ہوتا تھا اللہ تعالیٰ کی بغیر واسطہ ، صاف اور خالص عبادت کی جگہ قبروں، اولیاء اور مشائخ کی پوجا ہوتی تھی۔

اہل بدر کے تذکرہ میں علامہ محب الدین الخطیب کا یہ فکر انگیز بیان ملاحظہ فرمائیے:

یعنی اسلام کے اس پیغام کو جس کے لئے بدرکے بہادروں نے جان دی تھی۔

اس سے علماء اندازہ لگا سکتے ہیں کہ استاذ محترم کو دونوں زبانوں پر کس قدر عبور حاصل تھااور آپ کے تراجم میں کتنی کشش ہے، پڑھنے سے اندازہ ہی نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ ترجمہ ہے یاطبع زاد تصنیف۔

ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ عربی و اردو زبان کی نزاکت اور بیان کی لطافت سے خوب واقف تھے۔

یہ چند اوراق پریشاں نہایت بے سروسامانی اور عجلت میں لکھ رہا ہوں اور وہ بھی میرے نہایت محترم بزرگ اور کرم فرما مولانا عبداللہ مدنی؍حفظہ اللہ وتولاہ وبارک فی حیاتہ وشفاہ من کل مرض و داء۔کے بار بار اصرار پر سپرد قلم کررہا ہوں،جب کہ وہ خود صاحب قلم ہونے کے ساتھ ساتھ زود نویس ہیں،میں نے ان کا اشتیاق ان کے اصرار کے ساتھ دیکھااورمجھے یہ بھی دیکھنے میں آیاکہ وہ اپنے اساتذہ سے کتنی محبت وعقیدت رکھتے ہیں، دل میں کتنی تڑپ اور کتنا درد رکھتے ہیں، باربار ہم جیسے طالب علم سے اصرار کرکے مضمون لکھوانا چاہتے ہیں اللہ ان کے اندر یہ صفت برقرار رکھے، یہ تو وہی صفت ہے جو علامہ محمد اسماعیل گجرنوالہ، علامہ محمد حنیف بھوجیانی،علامہ نذیر احمد رحمانی اور خود ہمارے استاذ محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ میں پائی جاتی تھی کہ اپنے سے چھوٹوں کو حصول تعلیم پر اکساتے تھے، ان کو لکھنے پڑھنے کی تحریک کرتے تھے، ترغیب دیتے اور خود ہی ہمت افزائی بھی فرماتے تھے جزاہم اللہ أحسن الجزاء، ایسے لوگ چراغ راہ ہوتے ہیں۔

چراغ سر رہگزر ہم کو سمجھو

نہ منزل، نہ ہم انجمن جانتے ہیں

ہمارے استاذ محترم ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ متین اور سنجیدہ شخصیت کے مالک تھے، نئی نسل کے محسن اور مربی تھے، ایک عظیم دانشور اور بالغ نظر انشاء پرداز ، مفکر، مدبر، مؤرخ، مدرس،منتظم، مصلح، داعی اور واعظ بھی تھے، یہ ساری چیزیں آپ کی تحریروں میں عیاں اور بیاں ہیں۔ آپ کی تحریروں، کتابوں اور ترجموں کا ایک خاص مقام ہے، ضرورت ہے کہ آپ کی تحریروں کو جمع کیا جائے اور ان پر ریسرچ کی جائے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے حسنات، نیکیوں اور اعمال خیر کو قبول کرکے ان کو اجر جزیل سے نوازے، آپ کی لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرماکر آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، اہل و عیال اور ہم سارے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق دے آمین۔


ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ اور ان کی خصوصیات وخدمات۔مولانا محمد مظہر اعظمیؔ

مشرقی یوپی کا مردم خیز شہر مؤ ناتھ بھنجن اپنی اسلامی وعصری درسگاہوں کے ساتھ پارچہ بافی کی خوبصورت وساتر صنعت کے لئے مشہور ومعروف ہے ،اس شہر کے مغربی حلقہ کا ایک محلہ ڈومن پورہ کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں مشرقی یوپی کی سب سے قدیم درسگاہ جامعہ عالیہ عربیہ قائم ہے ،اس محلہ کی خاک سے بڑے بڑے اہل فن ،مصنف ومؤلف ، عالم اور شاعر پیدا ہوئے۔

علامہ شبلی نعمانی کے استاد مولانا فیض اللہ (وفات ۱۸۷۹ ؁ء ) اسی محلہ کے باشندے تھے،بیک وقت محمد علی نام کے چار عالم دین جو اپنی اپنی کنیت سے معروف ہوئے ان کا خمیر بھی اسی خاک سے اٹھا۔

(۱) مولانا ابولمحاسن محمد علی بن رحمہ اللہ (وفات ۲۲؍دسمبر ۱۹۳۰ ؁ء )

(۲)مولانا ابولمکارم محمد علی بن فیض اللہ(وفات ۱؍اکتوبر ۱۹۳۳ ؁ء)

(۳)مولانا ابولمعالی محمد علی بن حسام الدین(وفات ۴؍اپریل ۱۹۳۵ ؁ء)

(۴)مولانا ابولقاسم محمد علی بن عبدالرحمن شہید (وفات ۱۹۵۴ ؁ء)

مذکورہ علماء میں سے ہر ایک اپنے وقت کے عظیم اور قدآور عالم تھے،مولانا ابولمکارم محمدعلی جو روغن احمر کے موجد ہیں ان کی مطبوع وغیر مطبوع ترپن کتابیں ہیں، اسی طرح مولانا ابولمعالی محمد علی جوسہ لسانی شاعر ہونے کے ساتھ سترہ کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

ڈاکٹر نورالحسن انصاری(وفات ۵؍دسمبر ۱۹۸۷ ؁ء ) پروفیسر دلی یونیورسٹی جو فارسی زبان کے ادیب اور درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں ان کا بھی مولد ومسکن ہونے کا شرف اسی خاک کو حاصل ہے۔

محترم فضا ؔ ابن فیضی (وفات۱۷؍جنوری۲۰۰۹ ؁ء کا ذرہ جو اردوشعر وادب کا آفتاب وماہتاب بن کر چمکا اسی محلہ کی خاک کا حصہ ہے۔

جامعہ ازہر مصر میں داخلہ کا شرف حاصل کرنے والے تین فارغین نے بھی اسی محلہ میں آنکھیں کھولیں اور اسی فضا میں پرورش وپرداخت پائی۔

(۱) ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری(صدر جامعہ سلفیہ ۔بنارس)

(۲)مولانا مظہر احسن ازہری(ناظم اعلی جامعہ عالیہ عربیہ ۔ مؤ)

(۳)ڈاکٹر حافظ عبدالعلی ازہری(پرنسپل مسلم کالج ۔لندن)

ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری ۸؍اگست ۱۹۳۹ ؁ء کو حاجی محمد یاسین کے گھر دینی ماحول میں پیدا ہوئے اور مذہبی فضا میں پرورش پائی جس پرورش وپرداخت کا یہ اثر ہواکہ پہلے آپ نے قرآن حفظ کیا اور اس کے بعد جامعہ عالیہ عربیہ مؤ سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا ،اس کے بعد جامعہ اسلامیہ فیض عام مؤ میں داخل ہوئے اور فراغت جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ سے کیا ،اسی کے ساتھ عربی وفارسی بورڈ الہ آباد سے مولوی ،عالم ،فاضل کے امتحانات اچھے نمبرات سے پاس کیا۔

فراغت کے آپ نے تدریس کی ذمہ داری سنبھالی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا آپ کو اپنی منزل مقصود تک پہونچنے کے لئے تعلیمی سفر جاری رکھنا تھا ،اس لئے آپ نے جامعہ ازہر کے لئے رخت سفر باندھا اور اصول الدین فیکلٹی میں داخلہ لے کر ایم۔اے کی ڈگری حاصل کی۔

جامعہ ازہر جانے والے تینوں حضرات ابتدا ہی سے اپنی ذہانت کے لئے مشہور تھے ،ہر ایک امتحان میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کرتے ،جس کی وجہ سے ان کے اساتذہ ومتعلقین سبھی کی خواہش تھی کہ یہ لوگ پڑھ کر اچھے عالم بنیں اور قوم وملت کے لئے مستقبل میں کام کریں،اپنی علمی صلاحیت سے عام وخاص ہر ایک کو فائدہ ہو،اور بحمداللہ اساتذہ ومتعلقین کی خواہش پوری ہوئی ، ان میں سے ہر ایک نے عرب وعجم کو خوب خوب سیراب کیا بلکہ ڈاکٹر عبدالعلی ازہری عرصہ سے یورپ کو کتاب وسنت کے دوآتشہ سے آسودہ کررہے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ۱۹۶۷ ؁ ء میں جامعہ ازہر سے واپسی کے بعد جامعہ سلفیہ بنارس کے ہوکر رہ گئے اور صدارت کی عظیم ذمہ داری سنبھالے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے ،جامعہ سے وابستہ ہونے کے بعد آپ نے ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ڈاکٹر صاحب جامعہ میں ایک استاذ ہونے کے ساتھ وکیل الجامعہ کے اہم منصب پر بھی فائز رہے جس کا انھوں نے حق ادا کیا اور ملک وبیرون ملک جامعہ سلفیہ کا اس طرح تعارف کرایا کہ اتنی کم مدت میں شاید ہی کسی ادارے نے یہ مقام حاصل کیا ہو،اس اہم ترین ذمہ داری کے ساتھ ’’صوت الامۃ‘‘ کا پابندی کے ساتھ اپنی ادارت میں نکالنا بھی جس کی مدت تقریباً چالیس سال ہوتی ہے ،کوئی آسان نہیں۔

عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ بڑے بڑے اہل فن اور باصلاحیت افراد جن کے قلم کو دنیا تسلیم کر چکی ہوتی ہے ،کسی ادارے اور اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کے بعد تمام صلاحیت زنگ آلود اور قلم کا زور وروانی منجمد ہوجاتی ہے،مگر ڈاکٹر صاحب عصر حاضر کے ان فنکاروں میں ہیں جنھوں نے بیک وقت جامعہ کی وکالت بھی کی اور تصنیف وتالیف اور ترجمہ کا کام بھی انجام دیا ۔

ڈاکٹر صاحب کی کل اردو وعربی تصنیفات کی تعداد سترہ(۱۷)ہے ،اور اردو وفارسی سے عربی میں ترجموں کی تعداد چودہ(۱۴) ہے ،اور آپ نے عربی سے اردو میں جن کتابوں کو منتقل کیا وہ آٹھ(۸) ہیں ،آپ کے قلم سے تحقیقات وتعلیقات کا شرف تین کتابوں کو حاصل ہوا۔

چونکہ آپ کے درس وتدریس کا زمانہ طویل ہے اس لئے شاگردوں کی بھی تعداد کثیر ہے ،جن میں سے بیشتر اپنی اپنی بساط اورمعلومات کے مطابق لکھ رہے ہیں اور انشاء اللہ لکھیں گے،میں نہیں چاہتا کہ ایک ہی بات کو بار بار لکھا جائے بلکہ مناسب یہ ہوگا کہ جس کے پاس ڈاکٹر صاحب کے متعلق خاص اہم معلومات ہوں اسے تحریر کرے تاکہ آپ کی حیات کے مختلف گوشوں پر روشنی پڑ سکے۔

ڈاکٹر صاحب علم وفن کے معامہ میں کس قدر متواضع تھے اس کا اندازہ لگانا عام لوگوں کے لئے بہت مشکل ہے ،ایک دن کی بات ہے ڈاکٹر صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے اور فرمایا کہ چلئے فضاؔ صاحب سے ملنے چلیں میں فوراً ساتھ ہولیا ،دروازہ پر پہونچے اور دستک دی پھر چند لمحہ بعد آپ تشریف لائے ،فضاؔ صاحب چارپائی پر بیٹھ گئے اور آپ سے بھی اسی پر بیٹھنے کے لئے کہا مگر آپ بجائے چارپائی پر بیٹھنے کے چٹائی پر بیٹھے اور فرمایا ’’ہم لوگ آپ کے سامنے ایک طالب علم کی حیثیت رکھتے ہیں‘‘۔

چونکہ مجھے فضاؔ صاحب کا ہم کوچہ ہونے کا شرف حاصل ہے اس لئے ان سے استفادہ کا بھی موقع ملا، عمر کے آخر ی چند سالوں میں جب ضعف وکمزوری کی وجہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھے تو بڑی مشکل سے کسی کے سہارے شام کے وقت غریب خانہ پر تشریف لاتے ،اور دوران گفتگو اگر کوئی بھی تلفظ غلط ہوجاتا تو فوراً اصلاح فرماتے ،ایک دن جب میں نے گفتگو کرتے ہوئے پسِ منظر استعمال کیا تو انھوں نے فوراً اصلاح کی اور فرمایا کہ پسْ منظر صحیح ہے پسِ منظر غلط ہے ،اسی کے چند روز بعد ڈاکٹر صاحب سے میری گفتگو ہورہی تھی کہ انھوں نے بھی پسِ منظر کا لفظ استعمال کردیا میں نے پوچھا کہ پسْ منظر صحیح ہے یا پسِ منظر، میرے سوال کے بعدڈاکٹر صاحب سمجھ گئے کہ ضرور کوئی معاملہ ہے اور پوچھا کیا بات ہے ؟ میں نے کہا کہ فضاؔ صاحب فرماتے ہیں کہ پسْ منظر صحیح ہے ،یہ سننے کے بعد انھوں دومرتبہ پوچھا کیا فضاؔ صاحب نے کہا ہے ؟ میں نے ہر مرتبہ کہا کہ ہاں فضاؔ صاحب نے کہا ہے تب ڈاکٹر صاحب فر ماتے ہیں کہ ’’جب فضاؔ صاحب نے کہا ہے تو صحیح ہے‘‘۔

ڈاکٹر صاحب کی نظافت بھی مسلم ہے وہ حد درجہ نظیف اور صفائی پسند تھے ،ہماری مسجد پر جب ان کو خطبہ دینا رہتا تو ہم لوگ خاص خیا ل رکھتے تھے ،ایک مرتبہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے بعد کہا کہ دیکھو مصلیٰ میں کوئی بدبو تو نہیں آرہی ہے ،ہم لوگوں نے سونگھ کر دیکھا تو ہم لوگوں کو کچھ محسوس نہیں ہوا اس کے بعد ہم لوگ یہ کرتے کہ جب آپ کو خطبہ دینا رہتا تو مصلیٰ پر سجدہ کرنے کی جگہ عطر لگادیا کرتے تاکہ کسی قسم کی بو کا تصور بھی نہ ہو۔

کچھ دنوں پہلے مسجد پر مصلیوں کے لئے تولیہ لٹکا دیا کرتے تھے تاکہ وضو کے بعد لوگ پونچھ لیا کریں ،آپ نے دیکھا تو بہت ناپسند کیا اور کہا کہ تمام مصلیان اسی ایک دو تولیہ سے بار بار پونچھتے ہیں جس کی وجہ سے گندی بھی ہوتی ہے اور مہکتی بھی ہے اس لئے یہاں تولیہ نہیں رکھنا چاہئے اور پھر اسی دن سے تولیہ کا سلسلہ بند کر دیا گیا۔

ایک سیمینار میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ انھیں کے کمرے میں تھا ،صبح کے وقت میں نے بوٹ برش نکالا ، اپنا اور ڈاکٹرصاحب کا جوتا صاف کردیا ،کچھ دیرکے بعد جب سیمینار ہال میں جانے کا وقت آیا تو ڈاکٹر صاحب نے جوتا پونچھنے کے لئے ایک کپڑا نکالا اور پھر دیکھا تو جوتا صاف ہے ،جوتے کے پاس بوٹ برش دیکھ کر سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو صاف کرنے کے لئے کپڑا رکھتے ہیں، مگر آپ بوٹ برش رکھتے ہیں ،اس کے بعد کپڑا رکھنے کے بارے میں بتایا کہ جب ہم لوگ مصر میں ریڈیو پر کام کرتے تھے تو اس وقت ٹریننگ میں بتا یا گیا تھا کہ آپ دو رومال رکھیں ایک چہرہ صاف کرنے کے لئے اور دوسرا جوتا یا کرسی صاف کرنے کے لئے تاکہ کپڑا پراگندہ نہ ہو۔

ڈاکٹر صاحب ڈھیر ساری خصوصیات کے مالک تھے ،انھوں نے کئی مرتبہ باتوں بات کہا کہ میں اپنی بیماریاں کسی سے کہتا نہیں اور کہنے کا کوئی فائدہ بھی تو نہیں ہے ،البتہ علاج اور احتیاط کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں اس لئے اس میں کوئی دقیقہ فردگذاشت نہیں کرتا، اور شاید اسی احتیاط کا ثمرہ تھا کہ اس ستر سال کی عمر میں بھی نہ تو ان کے کام میں کوئی کمی واقع ہوئی اور نہ ہی کہیں سے کمزوری کا احساس ہوتاتھا، اس کے باوجود ادھر دو تین سال میں خود ان کی زبان سے دو یا تین مرتبہ درجہ ذیل شعر سنا ۔ع

یہ سب ٹوٹے ہوئے ساغر ہیں ساقی

رمضان سے پہلے حسب معمول جب گھر آئے تو اس وقت آپ کے داہنے انگوٹھے میں درد تھا جس کا علاج چلتا رہا مگر مسلسل ان کا قلم بھی رواں رہا اس اثناء میں پیٹ میں درد ہوا مگر ان تما م بیماریوں کے باوجود جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ہونے والے پروگرام کے لئے اپنا مقالہ بعنوان’’ المنح الدراسیۃ المقدمۃ المملکۃ المحروسۃ ومدی تاثیرہا فی بناء المستقبل للطلاب‘‘ تیار کرنے میں مسلسل عرق ریزی کرتے رہے یہانتک کہ عیدالفطر کی نماز اپنی عیدگاہ اہلحدیث ڈومن پورہ پچھم میں یکم شوال ۱۴۳۰ ؁ھ مطابق ۲۱؍ستمبر۲۰۰۹ ؁ء بروز سوموار پڑھایا ،جو کاتب تقدیر کے مطابق عمر عزیز کا آخری خطبہ عید تھا،اسی طرح اپنی آبائی مسجد اہلحدیث ڈومن پورہ حبہ میں ۲؍اکتوبر ۲۰۰۹ ؁ء کو آخری خطبہ جمعہ بھی دیکر۷؍اکتوبر۲۰۰۹ ؁ء کو جامعہ سلفیہ ۔بنارس کے لئے روانہ ہوئے ،اس دوران علاج بھی چلتا رہا اور قلم بھی ،کیونکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے لئے مذکورہ مقالہ ابھی تکمیل کے مرحلہ میں تھا یہانتک کہ ۱۸؍اکتوبر۲۰۰۹ ؁ء بروز اتوار مکمل کرکے اپنے بھانجے حافظ اسعد اعظمی استاذ جامعہ سلفیہ ۔بنارس کے حوالہ کرتے ہوئے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ بھیجنے کی تاکید کی اور اسی دن بذریعہ ہوائی جہاز علاج کے لئے بنارس سے دلی روانہ ہوگئے، دلی پہونچنے کے بعد انھیں بترا اسپتال لے جایا گیا جہاں علاج اور جانچ ہوتی رہی یہاں تک کہ پانچ روز کے بعد میکس اسپتال لے جایا گیا، میکس اسپتال سے صرف ایک دن کے بعد دوبارہ بترا اسپتال لایا گیا ،جہاں ڈاکٹروں نے ۲۹؍اکتوبر کی صبح جواب دے دیا ،اس کے بعد بذریعہ ایمبولنس مؤ کے لئے روانہ ہوئے،ایمبولنس میں ان کے ساتھ ان کے چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹر فوزان،چھوٹے بھائی ڈاکٹر اظہر، دونوں داماد ڈاکٹر سراج اور ڈاکٹر حماد تھے، ڈاکٹر حماد سے مسلسل بذریعہ موبائل رابطہ رہا ،ڈاکٹر حماد کے بیان کے مطابق ۲؍بجے رات تک بہت ہی ٹھیک تھے ،ہم لوگوں کے ساتھ دوبجے دوگھونٹ چائے لی اور سوگئے، تھوڑی دیر کے بعد تنگی تنفس پیدا ہوا اور فوراً آکسیجن لگایاگیا جس سے قدرے راحت ملی ،اس کے بعد آپ لیٹ گئے ،مگر تنفس کی وجہ سے پریشانی باقی رہی،اس اثناء کئی مرتبہ اٹھے اور الٹی کی کیفیت ہوئی مگر الٹی نہیں ہوئی ،یہانتک کہ سوا پانچ بجے آپ نے اٹھنے کے لئے کہا ،بیٹھا یا گیا اور بیٹھتے ہی الٹی ہوگئی ،رومال مانگا اور رومال منہ سے قریب پہونچا تھا کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی انا للہ وانا الیہ راجعون،ڈاکٹر حماد نے بتایا کہ جب میں نے گھڑی دیکھا تو پانچ بجکر سولہ منٹ ہوا تھا۔

آپ کے پسماندگان میں بیوی دوبیٹے اور دوبیٹیاں حیات ہیں اس کے علاوہ ایک بڑا اور تعلیم یافتہ کنبہ، اللہ تعالیٰ پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق اور ڈاکٹر صاحب کو جوار رحمت میں جگہ دے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افسانی کرے

سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے


Monday 1 February 2010

ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ۔ اعمال و خدمات۔۔ مطیع اللہ حقیق اللہ المدنی

اہل علم کا مقام کئی حیثیت سے بلندہے، علم دین کے حاملین اشخاص وارثین انبیاء کا بلند رتبہ اور اہم شرف اپنے دامن میں رکھتے ہیں ایسے ہی علماء حق ہی اللہ تعالیٰ کی سچی خشیت اپنے دل میں رکھتے ہیں۔
ان اہل علم کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی موت سے علم بھی اٹھتا جاتا ہے، بلکہ دینی علوم کا خاتمہ ایسے ہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ علماء کو اٹھالے گا۔ ’’إن اللہ لایقبض العلم انتزاعا، ولکن یقبض العلم بقبض العلماء‘‘(الحدیث)
۲۹۔۳۰؍اکتوبر کی درمیانی شب بروز جمعہ بوقت پانچ بجے کانپور میں عظیم الشان،جلیل القدر عالم دین ڈاکٹر حافظ مقتدیٰ حسن ازہریؔ صدر جامعہ سلفیہ بنارس انتقال فرماگئے۔
یہ فون،موبائل،انٹرنیٹ کا ترقی یافتہ دور ہے چند لمحوں میں یہ خبر پورے ہندوستان نیز بیرونی دنیا میں جملہ سلفی احباب کو موصول ہوئی اور حلقہ علم وادب میں غم واندوہ کی کیفیت طاری ہوگئی۔
مشرقی یوپی کا صنعتی شہر مؤ ناتھ بھنجن ایک زبردست مردم خیز شہر ہے جہاں کے فحول علماء دین کا ایک زریں سلسلہ رہا ہے۔ مولانا ملا حسام الدین ،مولانا فیض اللہ مؤی، مولانا ابوالمکارم محمد علی مؤی، مولانا ابوالمعالی مؤی،مولانا محمد احمد (بڑے مولانا) مولانا محمد احمد ناظم، مولانا عبداللہ شائق، مولانا مفتی عبدالعزیز اعظمی عمری،مولانا مفتی حبیب الرحمن فیضی، اور مولانا مفتی فیض الرحمن فیض وغیرہم رحمہم اللہ تعالیٰ۔ اپنے دور کے عظیم الشان اور جلیل القدر علماء اعلام گذرے ہیں۔ ان سب کا تعلق اسی شہر علم وادب مؤناتھ بھنجن سے تھا ،یہی مولانا مختار احمد صاحب ندوی رحمہ اللہ کا وطن مألوف تھا۔
اسی شہر کی خاک سے ایک مشہور و معروف علمی خانوادے میں حافظ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہریؔ رحمہ اللہ۱۹۳۹ء ؁ میں پیدا ہوئے اور یہیں نشونما پائی، اپنے محلہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔
مدرسہ دارالعلوم کی شاخ مرزا ہادی پورہ میں آپ نے قرآن کریم کا حفظ مکمل کیا اور شہر کے مختلف مدارس میں عربی علوم وفنون کی تحصیل کی اور اپنے عصر کے ممتاز و باکمال مدرسین سے معقولات و منقولات کا درس لیا اور بقدر استعداد ان سے کسب فیض کیا۔
بالآخر جامعہ اثریہ دارالحدیث مؤ سے سند فراغت حاصل کی۔آپ ایک محنتی اور ذہین وفطین طالب علم تھے اور طلب علم کی تشنگی بجھانے، علوم ادب میں کمال حاصل کرنے کی غرض سے آپ نے مصر کی مشہور یونیورسٹی ’’جامع ازہر‘‘ کا قصد فرمایا اور وہاں پر آپ نے لیسانس اور ماجستیر (ایم اے) کی ڈگری حاصل کی۔عربی زبان وادب کامطالعہ کیا اور اس میں کمال پیداکیا۔
عربی ادب میں تبحرو کمال حاصل کرنے کے بعد آپ نے وطن کی طرف مراجعت کی اور ۱۹۶۸ء ؁میں اپنا فیض عام کرنے کے لئے جماعت کی معروف نوخیز وقیع درسگاہ جامعہ سلفیہ مرکزی دارالعلوم بنارس میں تدریسی خدمات کی انجام دہی پر مامور ہوئے۔یہ مولانا عبدالوحید عبدالحق رحمہ اللہ سلفی ناظم جامعہ سلفیہ بنارس کی نگہ انتخاب تھی کہ آپ کوعربی زبان وادب کے استاذ کی حیثیت سے جامعہ کی خدمت کا موقع ملا۔اوروہیں سے آپ کی علمی زندگی کا آغاز ہوتا ہے اور پوری زندگی آپ نے جامعہ سلفیہ میں گذاردی اور مسلسل چالیس برس تک تدریسی ،دعوتی،تصنیفی، تالیفی،ادبی، تحقیقاتی اور تنظیمی خدمات میں مصروف کار رہے۔
آپ نے اپنے پیچھے جو علمی میراث چھوڑا ہے جس انداز کی ادبی و تحقیقی کتابیں تصنیف فرمائیں، تالیف وترجمہ کا جو وقیع کام کرگئے ہیں،دعوتی و تبلیغی خدمات کا شاندار ریکارڈ قائم کر چکے ہیں نیز عظیم الشان کثیر التعداد لائق فائق تلامذہ کی ایک ٹیم تیار کر گئے ہیں۔ ساتھ ہی متعدد باوقار مناصب اور جلیل القدر عہدے پر مامور رہ چکے ہیں۔ متعدد عظیم الشان کانفرنسوں کی صدارت فرماچکے ہیں۔جامعہ سلفیہ میں اپنے رفقاء کار کے ساتھ متعدد سمینار و کانفرنس اور علمی پروگرام کا انعقاد کرنے میں آپ کا قائدانہ رول رہا ہے۔ ان سب کی روشنی میں بجا طور پر وہ کہہ سکتے ہیں:
ع شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم
ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات کا مختصر تذکرہ ہی اس تحریر کا اصل مقصود ہے۔
تدریسی خدمات: ۱۹۶۸ء ؁ سے لے کر ۲۰۰۶ء ؁ تک مسلسل آپ نے جامعہ سلفیہ میں درجات عالیہ کی اہم ترین کتابوں کا درس دیا جن میں ’’تاریخ الادب العربی ‘‘اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی شاہکار تصنیف ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ اور علامہ ابن رشد کی ’’بدایۃ المجتہد‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
تقریباً چالیس سالہ زمانہ تدریس میں آپ کے سامنے ہزاروں طلبہ نے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور ہر ایک نے بقدر ظرف اور حسب صلاحیت اکتساب فیض کیا۔
آپ کے ان تلامذہ میں سے بعض نے آپ سے درسیات کے علاوہ ترجمہ وتالیف اور عربی صحافت اور مضمون نگاری میں تربیت حاصل کی اور انہوں نے اپنی مستقبل کی زندگی میں ایک کامیاب مترجم باکمال مضمون نگار اور بہترین انشاء پرداز کی حیثیت سے نمایاں مقام حاصل کیا۔
آپ کے انہیں تلامذہ میں سیکڑوں عرب وعجم میں انتہائی شہرت کے حامل ہیں جن پر جامعہ سلفیہ اور وہاں کے ذمہ داروں اور اساتذہ کو بجا طور پر ناز ہے۔
آپ کے چند مشہور تلامذہ کے اسماء بطور نمونہ درج ذیل ہیں:
مولانا عبدالمتین سلفی، مولانا عبداللہ سعود سلفی، مولانا اصغر علی امام مہدی۔ ڈاکٹراقبال احمد بسکوہری، مولانا عبدالمعید المدنی۔ ڈاکٹر عزیر شمس۔ ڈاکٹرعبدالقیوم البستوی۔ مولانا رفیع احمد سلفی، مولانا صلاح الدین مقبول۔ مولانا عبداللہ عبدالتواب المدنیؔ ۔ مولاناعبدالواحدمدنی۔ مولانا ارشد فہیم الدین ۔ وغیرہم
تصنیفی خدمات: ڈاکٹر ازہری صاحب علیہ الرحمہ جماعت کے ان چند نامور علماء میں سے ایک ہیں جنہوں نے بیش قیمت علمی کتابیں تصنیف کی ہیں۔اور قیمتی علمی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔جس سے اہل علم نے خوب استفادہ کیا۔ ساتھ ہی آپ نے انتہائی اہم ترین اردو کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔
آپ کی مشہور تالیفات وتراجم یہ ہیں:
*راہ حق کے تقاضے*خاتون اسلام *قرۃ العین فی تفضیل الشیخین ابی بکر وعمر*مسالۃ حیاۃ النبیﷺ ضوء الدولۃ الشرعیۃ۔ الشیخ محمد اسماعیل السلفی گجرنوالہ (عربی ترجمہ)*نظرۃ الی موقف المسلمین من أحداث الخلیج۔ *حرکۃ الانطلاق الفکری و جہود الشاہ ولی اللہ فی التجدید ۔مولانا محمد اسماعیل گجرنوالہ (عربی ترجمہ)*تاریخ ادب عربی ۔ أحمد حسن زیات (اردو ترجمہ) پانچ جلدیں۔
صحافتی خدمات: ڈاکٹر ازہری کو انشاء وصحافت بالخصوص عربی صحافت سے بڑا لگاؤ تھا، جامع ازہر میں حصول تعلیم اور وہاں کی علمی و ادبی فضا کا اثر آپ پر پڑنا طبعی تھا۔قیام مصر کے زمانہ میں آپ نے ریڈیو قاہرہ کے شعبۂ اردو سے وابستہ ہوکردو سال تک مترجم اور اناؤنسر کی خدمات انجام دیں۔
جامعہ سلفیہ میں تدریس کے زمانہ میں آپ نے مزید علمی ڈگریاں حاصل کرنے اور اپنے علوم ومعارف میں مزید اضافہ کی خاطر ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی‘‘ علی گڑھ سے (ایم فل) کیا۔ بالآخر۱۹۷۵ء ؁ میں آپ نے اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اپنے (پی ایچ ڈی)کے مقالہ کی تیاری کے دوران قیام علی گڑھ کے زمانہ میں اس یونیورسٹی کے شعبہ ادب میں سال بھر پڑھاتے بھی رہے ۔اس ماحول کا بھی آپ کے صحافتی ذوق پر اچھا اثر مرتب ہوا۔
عربی زبان وادب میںآپ نے تبحروکمال حاصل کیا۔ عربی زبان میں مضمون نگاری میں مہارت حاصل کی۔
جامعہ سلفیہ بنارس کے اولوالعزم ذمہ داروں نے وہاں پر طلبہ کی تعلیم وتربیت اور جملہ وسائل دعوت وارشاد کے نظم ونسق میں انتہائی دیدہ وری کا ثبوت دیا۔ایک طرف باکمال مدرسین کی مخلص و مستعدٹیم تدریسی خدمات کی انجام دہی میں مصروف کار تھی اور باکمال ہستیوں کو برائے تدریس جمع کرلیا گیا تھا تو وہیں پر صوت الجامعہ نامی ماہنامہ کا اجراء عمل میں آیاتھا جسمیں جامعہ سلفیہ کے مدرسین اور جماعت کے دیگر اہل قلم کے علمی مقالات و تحقیقات شائع ہوتے تھے۔ دوسری طرف وہاں پر شعبہ تالیف وترجمہ کا وجود عمل میں آیا جو ’’ادارۃ البحوث الاسلامیۃوالدعوۃ والارشاد‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، جس کے تحت اہم علمی ، دینی کتابوں کی طباعت واشاعت کا ایک جامع پروگرام تھا۔ اسی ادارۃ البحوث کی جانب سے ایک عربی مجلہ ’’مجلۃالجامعۃ السلفیۃ‘‘ کی اشاعت ۱۹۶۹ء ؁ میں عمل میں آئی۔ جو بعد میں ’’صوت الأمۃ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اور تاایں دم پابندی سے شائع ہورہا ہے۔
شروع سے اپنی حیات کی آخری سانسوں تک آپ اس مؤقر مجلہ کے نگراں اور مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ یہ مجلہ اہل حدیث درسگاہ سے شائع ہونے والا پہلا وقیع مجلہ تھا جو اپنی قیمتی سلفی نگارشات کی وجہ سے ہندوستان اور بیرون ملک بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے۔
اس چالیس سالہ عہد ادارت میں آپ نے سیکڑوں قیمتی مقالات و اداریہ جات قلمبند فرمائے جو اس مؤقر مجلہ کی زینت بنتے رہے ۔ اگر اداریوں کو اکٹھا کرکے شائع کرنے کا اہتمام کیا جائے تو وہ اہل علم کے لئے خاصے کی چیز ہوگی۔
عربی صحافت میںآپ کا بھرپور حصہ تھا ہی ساتھ ہی آپ اردو صحافت میں بھی اپنی قلمی جولانیوں کے جوہر دکھاتے رہے اور اپنی گرانقدر نگارشات سے قارئین کو مستفید فرماتے رہے۔
ازہری صاحب کا حلقہ تعارف کافی وسیع تھا۔ اہل علم سے گہرے روابط تھے، خود ان کے تلامذہ کی لائق و فائق ایک بہت بڑی ٹیم علمی میدان میں مصروف عمل تھی۔ ان میں سے کئی ایک کو ڈاکٹر صاحب سے خاصہ قرب حاصل تھا۔ان سبھی کو تصنیف وتالیف سے رغبت اور شدید دلچسپی رہی ہے۔
اسی بنا پر آپ نے ان اہل علم ، صاحبان قلم مؤلفین ومترجمین اور باحثین و محققین کی کتابوں کے مقدمات تحریر فرمائے۔ جو اپنی جگہ بذات خودحددرجہ بیش قیمت معلومات پر مبنی ہواکرتے تھے۔
مؤلفین و مترجمین کی کتابوں پر تحریر کردہ مقدمات کی تعداد پانچ سو کے قریب ہے۔ اس سے حجم کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، اگر ان تمام مقدمات و تقریظات کو یکجا کتابی شکل میں شائع کردیا جائے تو بہت نادر قیمتی علمی اور تحقیقی تحفہ ہوگا۔ جس سے طلبہ وعلماء یکساں طور پر مستفیض ہوسکتے ہیں۔
صوت الأمۃ کی ادارت اور دیگر علمی و تحقیقی کاموں کے ساتھ آپ اردو زبان میں قیمتی مضامین قلمبند فرماتے اور بیش قیمت عربی مقالات کا ترجمہ کرتے اور دیگر موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے جو جامعہ سلفیہ بنارس ، جریدہ ترجمان اور دیگر مجلات و جرائد کی زینت بنتے اور اس میں ہمیشہ تسلسل پایا جاتا رہا۔
دعوتی و ملی خدمات: آپ دعوتی و ملی خدمات میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے، ملک میں منعقد مختلف اجلاس عام، سمینار، سمپوزیم اور کانفرنسوں میں مدعو کئے جاتے اور اپنے بیش قیمت مقالہ کے ساتھ علمی مجالس میں شرکت فرماکرملت کو صحیح راہ فکر وعمل دکھانے کی کوشش کرتے، یا پھر اپنے خطاب سے سامعین کو محظوظ فرماتے۔
مختلف عصری جامعات میں بھی آپ کو لکچر کے لئے مدعو کیا جاتا تھا۔ بیرون ملک بالخصوص عالم عرب میں منعقد متعدد سمیناروں اور علمی و دعوتی کانفرنسوں میں آپ نے شرکت فرمائی اور اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔ اپنی زندگی کے آخری ادوار میں آپ نے امریکہ کا دورہ کیا اور فکری رہنمائی کے ذریعہ تبلیغ حق کا فریضہ ادا فرمایا۔
آپ نے جماعت اہل حدیث کی تنظیم’’مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند‘‘کے رکن شوریٰ و عاملہ کی حیثیت سے برسہا برس عظیم الشان خدمت کی ہے۔اس جمعیت کے تین ’’آل انڈیااہل حدیث کانفرنس‘‘ (منعقدہ :مؤ۱۹۹۵ء ؁، پاکوڑ ۲۰۰۴ء ؁، دہلی ۲۰۰۸ء ؁)کے صدر استقبالیہ ہونے کا شرف ڈاکٹر صاحب موصوف کو ہی حاصل ہے۔ یہ وہ انفرادیت ہے جس میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے۔اور ہر سہ کانفرنس میں آپ کا تحریر کردہ خطبہ استقبالیہ جو مطبوع شکل میں سامعین و قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا۔
آپ کے خطبہائے استقبالیہ انتہائی قابل قدر معلومات پر مشتمل ہیں جن سے تحریک اہل حدیث اور اس کے خط وخال کو سمجھنے ،اس تحریک کے مد وجزر کو جاننے، اس تحریک کے اغراض ومقاصد کو سمجھنے اور اس کے کارناموں کی تفصیل جاننے نیز اس کے عزائم سے واقف ہونے میں کافی مدد ملتی ہے۔
آپ اس کے علاوہ بھی اور اجلاس وسمینار کی صدارت فرماچکے ہیں اور خطبہ صدارت پیش کرتے رہے ہیں، ان خطبوں میں گرانقدر علمی معلومات بہم پہونچانے میں آپ نے کوئی دقیقہ فزوگداشت نہیں کیا ہے۔
خلیجی بحران کے موقع پر آپ کی تحریروں سے اس فتنہ اور اس کے ابعاد کو سمجھنے میں خوب مدد ملی تھی۔ڈاکٹر صاحب مرحوم کی علمی وادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے ۱۹۹۲ء ؁ میں ’’صدر جمہوریہ ایوارڈ‘‘عطا کیا۔
ڈاکٹر ازہری کی خدمات قلمبند کرنے کے لئے طویل دفتر چاہئے ان کے صاحبزادے ڈاکٹر فوزان (لکچرر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی) سے قوی توقع ہے کہ آپ ان کی حیات وخدمات کا ایک کامل و حسین مرقع تیار کریں گے ۔ جو ان کی علمی زندگی کے جملہ گوشوں پر محیط ہوگا۔
ازہری صاحب نے اپنی تدریسی و دعوتی زندگی جامعہ سلفیہ بنارس میں رہ کر گذاری آپ وہاں کے استاذ ،مدیر صوت الامۃ پھر وکیل الجامعہ کے اہم منصب پر فائز رہے پھر آخری مرحلہ حیات میں اس کے صدر مجلس منتظمہ کے ممتاز و نمایاں منصب پر مامور ہوئے اور آخری سانس تک اس باوقار عہدہ پر فائز رہے۔
ڈاکٹر صاحب کی موت جامعہ سلفیہ کے لئے ایک علمی خسارہ ہے اللہ تعالیٰ اس خلا کو اپنی رحمت سے پرکرے گا۔
انسان دنیا میں بہت ساری خوبیاں رکھنے کے باوصف بشرہونے کے ناطے کچھ کمیاں بھی ضرور رکھتا ہے۔ موصوف ڈاکٹر صاحب بھی اس سے الگ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ حافظ ڈاکٹرمقتدیٰ حسن صاحب ازہری کی اسلامی ،دینی، علمی خدمات کو قبول فرمائے اورانہیں ان کا بہترین اجروثواب عطا کرے۔ اوران کی بشری کوتاہیوں سے درگذر فرماکر ان کو اپنی رحمت کا سزاوار بنائے ۔آمین۔
ازہری صاحب کے پسماندگان میں اہلیہ ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں اور بھراپرا خاندان شامل ہے۔
ان کے تلامذہ کی لمبی تعداد بھی ان کے روحانی پسماندگان ہیں، ان کے غم میں شریک اور سبھی دعاگو ہیں کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے نوازدے اور ان کی مغفرت فرمادے۔